قومی

Parliament Monsoon Session 2026: راجیہ سبھا کی کارروائی پیر تک ملتوی، شیوراج سنگھ چوہان کا اپوزیشن پر حملہ، کہا- ایوان میں سڑک چھاپ سیاست کی جا رہی ہے

نئی دہلی : پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں جمعہ کو ایک بار پھر شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث کارروائی پیر 3 اگست کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ اپوزیشن ارکان نے رول 267 کے تحت طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا، تاہم چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا، جس کے بعد اپوزیشن نے نعرے بازی اور احتجاج مزید تیز کر دیا۔کارروائی کے آغاز پر قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن نے رول 267 کے تحت نوٹس دیا ہے اور وہ اس کے مطابق ایوان میں بحث چاہتی ہے۔ چیئرمین نے ان سے نوٹس کی تفصیلات دریافت کیں، جس پر کھڑگے نے بتایا کہ اپوزیشن طلبہ کے خلاف پولیس کے مبینہ استعمالِ طاقت کے معاملے پر فوری بحث کرانا چاہتی ہے۔

چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے رول 267 کے تحت بحث کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے مطالبے پہلے بھی مسترد کیے جا چکے ہیں۔ ان کے اس فیصلے کے بعد اپوزیشن کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر چیئرمین کے آسن کے قریب پہنچ گئے اور مسلسل نعرے بازی شروع کر دی، جس سے ایوان کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔ ہنگامے کے دوران مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر “سڑک چھاپ سیاست” کر رہی ہے اور اس کا رویہ پارلیمانی روایات اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

شیوراج سنگھ چوہان نے کہا، “میں مرکزی وزیر کی حیثیت سے ایوان میں موجود ہوں، لیکن جس طرح کا رویہ اپوزیشن اختیار کر رہی ہے، وہ پارلیمانی روایات کے مطابق نہیں ہے۔ ایوان کے اندر سڑک چھاپ سیاست کی جا رہی ہے، جمہوریت کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور ایوان کے وقار کو مجروح کیا جا رہا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا مقصد کسی سنجیدہ موضوع پر حکومت کے ساتھ بامعنی بحث یا مکالمہ کرنا نہیں بلکہ صرف ہنگامہ آرائی اور افراتفری پھیلانا ہے۔ ان کے مطابق عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے اور ایسے رویے کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔وزیر زراعت نے یہ بھی کہا کہ آج ایوان میں جو طرزِ عمل اختیار کیا گیا، وہ نہ صرف پارلیمانی روایات بلکہ آئین کی روح کے بھی خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن مسلسل آئین اور جمہوری اداروں کی بے حرمتی کر رہی ہے اور صرف سیاسی فائدے کے لیے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔دوسری جانب اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر مسلسل نعرے بازی کرتے رہے۔ شور و غل کے درمیان کچھ دیر تک وقفۂ صفر کی کارروائی جاری رکھنے کی کوشش کی گئی، تاہم احتجاج ختم نہ ہونے پر چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے راجیہ سبھا کی کارروائی پیر 3 اگست کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

بھارت ایکسپریس اردو 

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Congress’s Counterattack on Regime Change: ’رجیم چینج‘ پر کانگریس کا جوابی حملہ، کہا- ہم فخر سے کہتے ہیں، حکومت بدل کر رہیں گے

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’رجیم چینج‘…

12 minutes ago

Analysts Optimistic About Jio Platforms: جیو پلیٹ فارمز کے آئی پی او پر تجزیہ کار خوش، لسٹنگ پر 15-20فیصد اضافے کی توقع

ایمکے ریسرچ نے شرح نمو کے مقابلے میں مناسب قیمت کو دیکھتے ہوئے ’ سبسکرائب…

25 minutes ago

Abhijit Dipke in Custody: ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے ابھیجیت دیپکے حراست میں، کناٹ پلیس جانے کی کر رہے تھے کوشش

ترنگا مارچ سے پہلے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں…

47 minutes ago

Saudi Arabia Flight Alert: ایئر انڈیا کی 20 اکتوبر تک پروازیں منسوخ، انڈیگو سمیت 4 ایئرلائنز متاثر

سعودی عرب میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کے درمیان ایئر انڈیا نے ریاض، دمام اور…

2 hours ago