نئی دہلی: بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان سون ندی کے پانی کی تقسیم کو لے کر گزشتہ 26 برس سے جاری تنازع آخرکار ختم ہوگیا۔ نئی دہلی میں پیر کے روز مرکزی امور داخلہ و باہمی تعاون کے وزیر امت شاہ کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں دونوں ریاستوں کے درمیان ایک تاریخی مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کو دونوں ریاستوں کے درمیان طویل عرصے سے زیر التوا مسئلے کے حل کی سمت میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں مرکزی وزیر برائے جل شکتی سی آر پاٹل، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری بھی موجود تھے۔ امت شاہ نے اس معاہدے کو مشرقی ہندوستان کے ایک طویل عرصے سے زیر التوا تنازع کے حل کی اہم مثال قرار دیا۔ انہوں نے اسے ’تعاونی وفاقیت‘ (Cooperative Federalism) اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ٹیم انڈیا‘ کے تصور کی کامیاب مثال بھی بتایا۔
26 سال کے انتظار کا ہوا خاتمہ
بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر معاہدے کی اطلاع شیئر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 26 سال سے زیر التوا تنازع کا حل بہار کے مفاد میں ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ سمراٹ چودھری کے مطابق، اس معاہدے سے بہار کے کسانوں کو آبپاشی کے لیے مناسب پانی دستیاب ہوگا، جس سے زراعت کو مضبوط بنانے اور ریاست کی ترقی کو نئی رفتار دینے میں مدد ملے گی۔ سون ندی کے پانی کی تقسیم پر ہونے والے اس معاہدے کا فائدہ دونوں ریاستوں کے بڑے زرعی اور دیہی علاقوں کو ملنے کی امید ہے۔ بہار میں بھوجپور، بکسر، روہتاس، کیمور، اورنگ آباد، ارول، گیا اور پٹنہ کے بڑے حصے میں آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب جھارکھنڈ کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں، خصوصاً پلامو اور گڑھوا سمیت آس پاس کے اضلاع میں آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے اور دیہی آبادی کے لیے پینے کے پانی کی قلت دور کرنے میں اس معاہدے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
’ٹیم انڈیا اور تعاونی وفاقیت کی جیت‘
امت شاہ نے کہا کہ ریاستوں کی اپنی الگ شناخت اور سیاسی نظام ہونے کے باوجود جب سبھی ریاستیں ملک کے مفاد میں ایک ٹیم کے طور پر مل کر کام کرتی ہیں تو پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلے کا حل بھی نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ بہار اور جھارکھنڈ کے دیہی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں کسانوں کی زندگی میں خوشحالی لانے میں معاون ثابت ہوگا۔ مرکزی حکومت کی کوششوں سے بین ریاستی تنازعات کے حل کی یہ حالیہ مثال ہے۔ اس سے قبل 7 جولائی 2026 کو نرمدا ایوارڈ سے متعلق مہاراشٹر، گجرات، راجستھان اور مدھیہ پردیش کے درمیان برسوں سے زیر التوا مالی ادائیگی کے تنازع کو بھی حل کیا گیا تھا۔ سون ندی کے پانی کی تقسیم پر تازہ معاہدے کو بھی مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون کی اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پانچ روزہ بین الاقوامی تجارتی میلے میں اتر پردیش کی صنعت، برآمدات، ٹیکنالوجی، دستکاری اور…
اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے زیر اہتمام ’بزم صحافت‘ کے تحت منعقدہ ’اردو صحافت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے مرکزی وزیر سی آر پاٹل کی جانب سے لکھا گیا…
بہار قانون ساز کونسل کی 4 گریجویٹ اور 4 ٹیچر حلقوں سمیت کل 8 نشستوں…
آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ…