امریکی انٹیلیجنس سربراہ تلسی گابارڈ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ امریکہ میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم ہیکنگ کے خطرہ کے ثبوت ملے ہیں، کانگریس نے ہفتہ کو حکومت اور الیکشن کمیشن سے ای وی ایم کے معاملے پر صفائی دینے کا مطالبہ کیا اور سپریم کورٹ سے اس معاملے کا ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری رندیپ سرجےوالا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ’’اب وقت آگیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو ان شکوک و شبہات کے ازالے کے لیے جواب دہی کرنی چاہیے، کیوں کہ کئی ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔‘‘
کانگریس اور کئی دیگر اپوزیشن پارٹیاں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کی صداقت پر سوال اٹھا رہے ہیں اور انتخابات میں ووٹنگ کے لیے بیلٹ پیپرز کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر سرجے والا نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔ انھوں نے کہا ’’این ڈی اے حکومت، سی ای سی اور ای سی کو امریکہ سے رابطہ کرنا چاہیے اور امریکیوں کے ذریعہ اس معاملے میں کی تحقیقات کو دیکھنا چاہیے۔‘‘
الیکشن کمیشن نے بارہا ان الزامات کو کیا ہے مسترد
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے جمعہ کو ان تجاویز کو مسترد کر دیا تھا کہ ملک میں استعمال ہونے والی ای وی ایم کی ہیکنگ کا کوئی خطرہ ہے، کیوں کہ کمیشن کے مطابق یہ مشینیں ایک سادہ کیلکولیٹر کی طرح کام کرتی ہیں جو انٹرنیٹ یا انفراریڈ سے منسلک نہیں ہیں۔ کمیشن نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ کچھ ممالک میں ایسے ای وی ایم استعمال کیے جاتے ہیں جو متعدد سسٹمز، مشینوں اور انٹرنیٹ سمیت مختلف نجی نیٹ ورکس کا بھی استعمال کرتے ہیں، تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان جن الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کرتا ہے وہ ’’سادہ کیلکولیٹر‘‘ کی طرح کام کرتی ہیں اور انٹرنیٹ، وائی فائی یا انفراریڈ سے منسلک نہیں ہوسکتی ہیں۔
لیکن گابارڈ کے تازہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کے ترجمان نے کہا ’’24 گھنٹے ہو چکے ہیں اور الیکشن کمیشن یا ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے اس پر کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ پی ایم مودی، بی جے پی اور این ڈی اے نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ مودی حکومت کو ان سوالات کا جواب دینا چاہیے جو گابارڈ کے بیان کے بعد اٹھائے جا رہے ہیں، جنھیں حکومت نے حال ہی میں مبارکباد دی ہے۔
کانگریس لیڈر نے الیکشن کمیشن کے ’’ذرائع‘‘ پر اٹھائے سوال
انھوں نے نشاندہی کی کہ پارٹی کو اس بات پر تشویش ہے کہ الیکشن کمیشن کیوں بس ’’ذرائع پر مبنی کہانیاں سنا رہا ہے کہ ہماری ای وی ایم ٹھیک ہیں؟‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’معلومات لینے اور ثبوت تلاش کرنے کے بجائے وہ سرٹیفکیٹ جاری کر رہے ہیں کہ ہماری ای وی ایم بالکل ٹھیک ہیں۔ کیا ہندوستان کی سپریم کورٹ کو اس معاملے کا ازخود نوٹس نہیں لینا چاہیے ؟اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات اور جمہوریت آئین کے ’’بنیادی ڈھانچے‘‘ کا حصہ ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
’Switcheko‘ کا موبائل ویسٹ پروسیسنگ ماڈل، کچرا پیدا ہونے والی جگہ پر ہی کرے گا…
بنگال کی خلیج میں بننے والے موسمی نظام اور ہمالیائی خطے میں فعال مغربی ہواؤں…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارت کی شاندار شروعات، منی پور کی روشیبینا دیوی نے…
چین کے صدر شی جن پنگ تین روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے، صدر ڈونلڈ…
اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک دل دہلا دینے والا…
’سیوا یاترا‘ میں شامل نوجوان اسکولوں، اسپتالوں، یتیم خانوں اور اولڈ ایج ہومز میں صفائی…