اڈانی گروپ کی توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ گروپ کی دو کمپنیوں اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور اڈانی پاور نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ انہیں حکومتِ آسام کی جانب سے کل 63 ہزار کروڑ روپے مالیت کے دو وسیع توانائی منصوبوں کے لیے لیٹر آف ایوارڈ جاری کر دیے گئے ہیں۔ یہ منصوبے نہ صرف ریاست آسام بلکہ پورے شمال مشرقی خطے کی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق، اڈانی پاور ریاست میں 3200 میگاواٹ کی گنجائش پر مشتمل گرین فیلڈ الٹرا سوپر کریٹیکل تھرمل پاور پلانٹ کے قیام کے لیے 48 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی۔ یہ پلانٹ جدید ترین تکنیکی معیار کے مطابق تعمیر کیا جائے گا اور اسے ڈی بی ایف او او ماڈل (ڈیزائن، بلڈ، فنانس، اون اینڈ آپریٹ) کے تحت چلایا جائے گا۔ کمپنی نے ایک سخت نیلامی عمل میں 6 روپے 30 پیسے فی یونٹ کی کم ترین ٹیرف پیش کرتے ہوئے یہ پروجیکٹ حاصل کیا۔ منصوبے کے لیے کوئلے کی فراہمی حکومتِ ہند کی شَکتی پالیسی کے تحت مختص کی گئی ہے۔
دوسری جانب، اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ ریاست میں دو پمپ اسٹوریج پلانٹس کے قیام کے لیے 15 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی، جن کی مجموعی صلاحیت 2700 میگاواٹ ہوگی۔ اس کے علاوہ، کمپنی کو 500 میگاواٹ کی انرجی اسٹوریج سسٹم تیار کرنے کے لیے بھی ایل او اے جاری کیا گیا ہے، جس کی سپلائی انہی پمپ اسٹوریج یونٹس کے ذریعے ممکن بنائی جائے گی۔ اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے کہا کہ شمال مشرقی علاقہ تیزی سے ہندوستان کی ترقیاتی کہانی کا ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے اور ہمیں اس تبدیلی میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر ہے۔ ان کے مطابق، یہ دونوں منصوبے ـ چاہے وہ تھرمل پاور ہو یا پمپ اسٹوریج ـ نہ صرف نجی شعبے کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کی مثال ہیں بلکہ انرجی سیکیورٹی، صنعتی ترقی اور بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے کی سمت ایک مضبوط قدم بھی ہیں۔
گروپ کے مطابق، تعمیراتی مرحلے کے دوران 20 سے 25 ہزار افراد کیلئے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ عملیاتی مرحلے میں تقریباً 3500 ملازمتیں فراہم ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے کو دسمبر 2030 سے مرحلہ وار شروع کیا جائے گا۔ یہ سرمایہ کاری اسی عزم کی توسیع ہے جو گوتم اڈانی نے رواں سال فروری میں ظاہر کیا تھا، جب انہوں نے شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی میں 50 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ گوتم اڈانی کا کہنا تھا کہ یہ منصوبے نہ صرف آسام کی توانائی ضرورت پوری کریں گے بلکہ پورے شمال مشرقی خطے کی اقتصادی رفتار کو بھی تیز کریں گے اور مقامی کمیونٹیز کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…