قومی

Gautam Adani Bengal Investment: مغربی بنگال میں اڈانی گروپ کی بڑی انٹری کی تیاری، ہگلی ندی کے نیچے انڈر ریور ٹنل بنانے کا منصوبہ

نئی دہلی : مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد قائم ہونے والی نئی حکومت ریاست کو تیز رفتار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بڑے صنعتی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اسی سلسلے میں ملک کے معروف صنعت کار گوتم اڈانی کی قیادت والے اڈانی گروپ کی جانب سے بھی ریاست میں اپنی موجودگی بڑھانے کے اشارے ملے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اڈانی گروپ مغربی بنگال میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) سے متعلق بڑے منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ کمپنی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ گروپ خاص طور پر کولکاتا اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس سے متعلق منصوبوں کا جائزہ لے رہا ہے، جن میں ہگلی ندی کے نیچے مجوزہ انڈر ریور ٹنل بھی شامل ہے۔عہدیدار کے مطابق کولکاتا میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ اور مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے ہگلی ندی کے نیچے ایک جدید ٹنل تعمیر کی جا سکتی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد شہر کو براہ راست قومی شاہراہوں سے جوڑنا اور بھاری گاڑیوں کو بغیر ٹریفک جام کے گزرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اڈانی گروپ ایسے منصوبوں میں خصوصی دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی تعمیر اور آپریشن کمپنی کی بنیادی مہارتوں میں شامل ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے نہ صرف ٹریفک کے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ صنعتی سرگرمیوں اور تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔

اس کے علاوہ اڈانی گروپ مغربی بنگال کے پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ کمپنی بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نیٹ ورک میں شمولیت پر غور کر رہی ہے۔ گروپ کا ماننا ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت سے مسابقت میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں یوزر کو بہتر اور زیادہ قابل اعتماد بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔رپورٹ کے مطابق اڈانی گروپ ریاست میں مجوزہ ڈیپ سی پورٹ منصوبے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ گہری ندی کی بندرگاہ ایک اہم معاشی موقع ثابت ہو سکتی ہے، اس نوعیت کے منصوبوں کے ساتھ متعدد چیلنجز بھی وابستہ ہوتے ہیں، جن میں ماحولیاتی منظوری، زمینی مسائل اور مرکز و ریاستی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم جیسے معاملات شامل ہیں۔ریاستی حکومت کا ماننا ہے کہ بڑے صنعتی سرمایہ کاروں کی آمد سے مغربی بنگال میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور ریاست کی معیشت کو نئی رفتار ملے گی۔ اسی مقصد کے تحت حکومت سرمایہ کاروں کے لیے شفاف اور کاروبار دوست پالیسی فریم ورک تیار کرنے پر بھی زور دے رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو 

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Todays Weather: موسم نے بدلا رخ! کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان، آئی ایم ڈی نے جاری کی پیش گوئی

مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…

2 hours ago

Delhi IIC Bazm-e-Sahafat: ’اردو مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی زبان ہے‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین کا اظہارِ خیال

بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…

3 hours ago