قومی

Adani Power: اڈانی پاورماحولیاتی، سماجی اور گورننس معیارات میں نمایاں کارکردگی کے باعث ’لیڈرشپ‘ زمرے میں شامل

نئی دہلی: بھارت کی معروف نجی بجلی پیدا کرنے والی کمپنی اڈانی پاور کو ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ESG) معیارات میں نمایاں کارکردگی کے باعث ’لیڈرشپ‘ زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ ریٹنگ ایجنسی کیئرایج کی جانب سے جاری رپورٹ میں کمپنی کو 80.0 کا مجموعی اسکور دیا گیا ہے، جو اس شعبے میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کمپنی نے ماحولیاتی شعبے میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 75.6 کا اسکور حاصل کیا، جو کہ انڈسٹری کے اوسط 50.2 سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ بہتری بنیادی طور پر کاربن اخراج میں کمی، توانائی کے بہتر استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ اڈانی پاور کی مجموعی پیداواری صلاحیت کا 60 فیصد سے زائد حصہ سپرکریٹیکل اور الٹرا سپرکریٹیکل ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جس کے ذریعے کم ایندھن استعمال کرتے ہوئے زیادہ بجلی پیدا کی جاتی ہے اور آلودگی میں بھی کمی آتی ہے۔

اخراج میں کمی اور مستقبل کی حکمت عملی

اگرچہ مالی سال 2025 میں کمپنی کے کل اخراج میں اضافہ دیکھا گیا، جس کی وجہ پیداواری صلاحیت میں توسیع ہے، تاہم فی یونٹ اخراج میں تقریباً ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو انڈسٹری اوسط سے بہتر ہے۔ کمپنی نے 2070 تک ’نیٹ زیرو‘ اخراج کا ہدف مقرر کیا ہے، جو عالمی موسمیاتی معاہدوں اور بھارت کے اہداف کے مطابق ہے۔ مستقبل میں کمپنی گرین ہائیڈروجن، انرجی اسٹوریج اور کاربن کیپچر جیسی جدید ٹیکنالوجیز پر بھی کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سماجی ذمہ داری کے میدان میں بھی اڈانی پاور نے نمایاں کارکردگی دکھائی ہے، جہاں اسے 81.6 کا اسکور حاصل ہوا۔ کمپنی کے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) پروگراموں سے 12.3 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے ہیں۔ ان پروگراموں میں صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہے۔

توسیعی منصوبے اور سرمایہ کاری

گورننس کے شعبے میں کمپنی کو 85.8 کا اسکور ملا، جو اس کے مضبوط انتظامی ڈھانچے اور قوانین کی پابندی کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، بہتر گورننس کسی بھی ادارے کی طویل مدتی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ فی الحال کمپنی کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 18.15 گیگاواٹ ہے، جسے 2032 تک بڑھا کر 23.72 گیگاواٹ کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس مقصد کے لیے تقریباً 22 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جو اس شعبے میں نجی سطح پر ایک بڑی سرمایہ کاری سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کاربن پر مبنی توانائی کے شعبے میں کام کرنے کے باوجود اس سطح کی ای ایس جی درجہ بندی حاصل کرنا ایک اہم پیش رفت ہے، جو مستقبل میں دیگر کمپنیوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

7 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

7 hours ago