قومی

Adani Group Undertaking Large-Scale Infrastructure Projects: وکست بھارت کے وژن کی تکمیل کے لیے اڈانی گروپ بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے نافذ کر رہا ہے: پریتی اڈانی

اڈانی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر پریتی اڈانی نے پیر کے روز کہا کہ اڈانی گروپ ہندوستان کو درپیش اہم چیلنجوں سے نمٹنے اور 2047 تک ملک کو ترقی یافتہ قوم بنانے کے وژن کی تکمیل کے لیے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ وارانسی میں منعقدہ ’قدیم دانش اور جدید چیلنجز‘ کے موضوع پر عالمی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے غربت، غذائی قلت، ناخواندگی اور بجلی سمیت ضروری سہولتوں کی آخری سرے تک محدود رسائی جیسے دیرینہ مسائل کی نشاندہی کی۔ انہوں نے زور دیا کہ ان چیلنجوں سے نمٹنے اور ملک کی طویل مدتی ترقی میں تعاون کے لیے کاروباری اداروں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہندوستان کی روایتی دانش کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر اڈانی نے کاروباری سرگرمیوں میں پائیداری کو شامل کرنے اور انفرادی مفادات کے مقابلے اجتماعی ذمہ داری کو ترجیح دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یوگا کو ہندوستان کی قدیم دانش کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ روایتی طریقے جدید زندگی میں بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے موٹے اناج یعنی ملیٹس کا بھی ذکر کیا، جن کی اہمیت غذائیت، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور غذائی تحفظ سے متعلق مباحث میں ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔

پائیداری اور قابل تجدید توانائی کے اقدامات

گروپ کے پائیداری سے متعلق عزم کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ اڈانی گروپ نے توانائی کی منتقلی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر گجرات کے کھاوڑا میں قابل تجدید توانائی کے منصوبے کا ذکر کیا اور اسے دنیا کا سب سے بڑا قابل تجدید توانائی پارک قرار دیا۔ اس منصوبے کے تحت شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی کے ذریعے 30 گیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پائیداری کو صرف کمپنیوں کی رپورٹوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے کاروباری سرگرمیوں کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ ڈاکٹر پریتی اڈانی کے بیان میں اس بات کو نمایاں کیا گیا کہ بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، قابل تجدید توانائی اور پائیدار کاروباری طریقے ہندوستان کے ترقیاتی اہداف کی تکمیل اور 2047 تک وکست بھارت کے وژن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Ramdas Athawale Slams Rahul Gandhi: وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے راہل گاندھی کو بتایا وزیر اعظم مودی کو اقتدار سے ہٹانے کا راستہ

مرکزی وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد پر…

1 hour ago

نیشنل کانفرنس میں زبردست اختلاف! 18 اراکین اسمبلی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو لکھا خط، کابینہ میں تبدیلی سمیت کیا یہ بڑا مطالبہ

یادداشت پر دستخط کرنے والے اراکین اسمبلی نے عوامی توقعات اور حکومت کے درمیان بڑھتی…

2 hours ago