قومی

Abhijit Dipke Raises Questions: سرکاری اسکولوں کی بدحالی پر ابھیجیت دیپکے نے اٹھائے سوال، سرپنچوں اور والدین سے کی بڑی اپیل

یومِ آزادی سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ملک کے سرکاری اسکولوں کی بدحال صورتحال پر سوال اٹھائے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ملک 15 اگست 2026 کو آزادی کے 80 سال مکمل کرنے جا رہا ہے، لیکن آج بھی کئی گاؤں کے سرکاری اسکول بنیادی سہولیات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

ترقی کے باوجود گاؤں کے اسکولوں پر توجہ کیوں نہیں؟

ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 80 برسوں میں ملک نے ترقی کے میدان میں طویل سفر طے کیا ہے۔ بڑے منصوبے شروع ہوئے، نئی پارلیمنٹ کی عمارت بنی اور کئی اہم اسکیموں پر کام ہوا۔ تاہم دوسری جانب گاؤں میں مزدوروں اور کسانوں کے بچوں کی تعلیم سے وابستہ سرکاری اسکولوں کو وہ ترجیح نہیں مل سکی جس کی انہیں ضرورت تھی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک ترقی کی سمت آگے بڑھ رہا ہے تو گاؤں کے بچوں کو بہتر تعلیم اور ضروری سہولیات فراہم کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق آج بھی کئی گاؤں میں بچوں کو اسکول پہنچنے کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔مسئلہ صرف اسکول تک پہنچنے تک محدود نہیں ہے۔ کئی مقامات پر اسکول پہنچنے کے بعد بھی بچوں کو صاف پینے کے پانی، بیت الخلا اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم طالبات کو درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا۔

15 اگست سے نئی شروعات کی اپیل

ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ اگر یومِ آزادی کے موقع پر کوئی نئی شروعات کرنی ہے تو اس کی ابتدا گاؤں کے سرکاری اسکولوں سے ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ 15 اگست کو وہ اپنے گاؤں ہنگولی جائیں گے اور وہاں کے سرپنچ سے ملاقات کرکے سرکاری اسکول کی ترقی اور بچوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کی سمت میں کام کرنے کی اپیل کریں گے۔انہوں نے مہاراشٹر کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے گرام پردھانوں اور سرپنچوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے گاؤں کے سرکاری اسکولوں کی صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھیں۔ ان کے مطابق صرف اسکول کی عمارت فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ وہاں بہتر تعلیمی ماحول اور ضروری بنیادی سہولیات بھی ہونی چاہئیں۔

اچھا کام کرنے والے سرپنچوں کو سوشل میڈیا پر لائے گی پارٹی

دیپکے نے کہا کہ گاؤں کے عوامی نمائندوں کو اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جو سرپنچ اپنے گاؤں کے سرکاری اسکول کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس کام کریں گے، کاکروچ جنتا پارٹی ان کی کوششوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کے سامنے لائے گی۔پارٹی ایسے اقدامات سے متعلق ویڈیوز بھی شیئر کرے گی، تاکہ دوسرے گاؤں کے عوامی نمائندوں کو بھی ترغیب مل سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک گاؤں میں شروع کیا گیا اچھا کام دوسرے گاؤں کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔

والدین بھی اسکولوں کا جائزہ لیں

ابھیجیت دیپکے نے بچوں کے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ وقت نکال کر اپنے بچوں کے سرکاری اسکولوں کا دورہ کریں اور وہاں موجود سہولیات کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لیں۔ اگر کسی اسکول میں ضروری سہولیات کی کمی نظر آئے تو والدین اس کی ویڈیو بنا کر پارٹی تک پہنچا سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی جلد ہی والدین کے لیے ایک خصوصی فارم جاری کرے گی، جس کے ذریعے وہ یہ معلومات دے سکیں گے کہ اسکول میں کون کون سی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ یہ معلومات فارم اور ای میل کے ذریعے پارٹی تک بھیجی جا سکیں گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Dharavi Redevelopment Project: دھاراوی کے لوگوں کے لیے بڑی شروعات، 10,432 نئے مکانات کی تعمیر شروع، اڈانی گروپ نے کیا بھومی پوجن

اڈانی گروپ نے ممبئی کے ماٹونگا میں دھاراوی بازآبادکاری منصوبے کے تحت 10,432 بازآبادکاری مکانات…

9 hours ago

INDIA Alliance Big Rally Plan: ووٹ چوری کے معاملے پر انڈیا اتحاد کی بڑی تیاری، دسمبر میں رام لیلا میدان سے طاقت دکھانے کا منصوبہ

دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی میں بڑی ریلی منعقد کرنے کی تیاری، ملک بھر…

9 hours ago

INDIA Alliance Massive Protest Against Vote Chori: ووٹ چوری کا معاملہ، سڑک سے سپریم کورٹ تک عوامی سیلاب، کب کیا ہوا؟ جانیے مکمل ٹائم لائن

ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا اتحاد کا دہلی میں زبردست احتجاج،…

10 hours ago