مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کی خبر سامنے آنے کے بعد مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر میں طلبہ کی تحریک سے وابستہ ابھیجیت دیپکے کے خاندان میں جذبات کا سیلاب امڈ آیا۔ طلبہ کے مطالبات کے لیے طویل عرصے سے آواز اٹھانے والے ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے کے گھر میں خوشی اور جذباتی ماحول دیکھنے کو ملا۔ اہلِ خانہ نے اس فیصلے کو طلبہ کی جدوجہد کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
ابھیجیت کی والدہ کا جذباتی بیان
ابھیجیت کی والدہ انیتا دیپکے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن طلبہ کے لیے بے حد خاص ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی انہیں دھرمیندر پردھان کے استعفے کی اطلاع ملی، وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ ان کے مطابق طلبہ کے مطالبات کے لیے جاری تحریک بالآخر ایک اہم موڑ پر پہنچ گئی ہے اور یہ خبر ان کے خاندان کے لیے کسی تہوار سے کم نہیں۔
گزشتہ چند ہفتے ان کے خاندان کے لیے انتہائی کٹھن رہے
انیتا نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتے ان کے خاندان کے لیے انتہائی کٹھن رہے۔ تحریک کے دوران جب ابھیجیت کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور انہیں تھپڑ مارا گیا تو وہ شدید خوفزدہ ہو گئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد کئی دن تک نہ انہیں نیند آئی اور نہ ہی کھانا کھانے کا دل چاہا۔ انہوں نے بتایا کہ 7 جون کے بعد سے گھر کا ماحول مکمل طور پر بدل گیا تھا اور ہر وقت بیٹے کی سلامتی کی فکر لاحق رہتی تھی۔
بیٹے پر فخر
انہوں نے اپنے بیٹے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنی کم عمر میں ابھیجیت نے طلبہ کے مسائل کو مضبوطی سے اٹھایا اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ ان کے مطابق عوام کی جانب سے ملنے والی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ طلبہ کے مفاد میں اٹھائی گئی آواز کو وسیع پیمانے پر پذیرائی ملی۔
جنتر منتر سے پورے ملک تک پہنچی طلبہ کی تحریک کی گونج
ابھیجیت کے والد بھگوان راؤ دیپکے نے بھی دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ایک ضروری قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ، والدین اور ان کے خاندانوں میں بڑھتے ہوئے غصے کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔ ان کے مطابق ابتدا میں یہ تحریک دہلی کے جنتر منتر تک محدود تھی، لیکن رفتہ رفتہ اس کی گونج ملک کے مختلف حصوں تک پہنچ گئی۔ بھگوان راؤ نے کہا کہ تحریک کے دوران وہ مسلسل اپنے بیٹے کی صحت اور حفاظت کے حوالے سے پریشان رہے۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاج کے دوران ابھیجیت ڈینگی اور ٹائیفائیڈ کا بھی شکار ہو گئے تھے، جس سے خاندان کی تشویش مزید بڑھ گئی تھی۔ کئی بار ان کا دل چاہا کہ دہلی جا کر بیٹے کو واپس گھر لے آئیں، لیکن طلبہ کے لیے ابھیجیت کی وابستگی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ 20 جولائی کو احتجاج کے دوران لاٹھی چارج کی خبر سن کر وہ بہت جذباتی ہو گئے تھے اور پورا دن روتے رہے۔ اب دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد خاندان کو محسوس ہو رہا ہے کہ طلبہ کی طویل جدوجہد کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…