نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے وقف (ترمیمی) بل، 2025 کے آئینی جوازکوچیلنج دیتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ امانت اللہ خان نے اپنی عرضی میں گزارش کی ہے کہ وقف (ترمیمی) بل کوغیرآئینی اورآئین کے آرٹیکل 14, 15, 21, 25, 26, 29, 30 اور 300 اے کی خلاف ورزی کرنے والا قراردیا جائے۔ ساتھ ہی اسے منسوخ کرنے کا بھی حکم دیا جائے۔
امانت اللہ خان نے اپنی عرضی میں کہا کہ یہ بل آئین کے آرٹیکل 14, 15, 21, 25, 26, 29, 30 اور300 اے کے تحت دیئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ مسلمانوں کی مذہبی اورثقافتی آزادی کوکم کرتا ہے۔ یہ منمانے طریقے سے ایگزیکٹیو مداخلت کوقابل بناتا ہے اوریہ اقلیتوں کے مذہبی اور خیراتی اداروں کے انتظام کے حقوق کومجروح کرتا ہے اورکمزوربناتا ہے۔
عدالت پہنچے کانگریس ایم پی محمد جاوید اور اسدالدین اویسی
واضح رہے کہ وقف ترمیمی بل کولوک سبھا، راجیہ سبھا سے پاس کردیا گیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید اورآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدراسد الدین اویسی نے بھی اس کی آئینی جوازکوچیلنج کرنے کے لیے جمعہ کوسپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ دونوں لیڈران نے وقف ترمیمی بل کو غیرقانونی قراردیا ہے۔ اس دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے کہا، “یہ بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پاس ہو چکا ہے۔ اس پر صدرجمہوریہ کے دستخط ہونا باقی ہے۔ اسے قانونی مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔ ہم وہی کریں گے جوآئینی ہے۔ پارلیمنٹ میں منظورکیا گیا ترمیمی بل غیرآئینی ہے۔”
سونیا گاندھی نے کہی یہ بڑی بات
کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کی سربراہ سونیا گاندھی نے حکومت پروقف (ترمیمی) بل کو منمانے طورپرپاس کرنے کا الزام لگایا ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ یہ بل آئین پرکھلا حملہ ہے۔ یہ سماج کومستقل پولرائزیشن کی حالت میں رکھنے کے لئے (بی جے پی) کی دانستہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس دوران لوک سبھا کے اسپیکراوم برلا نے سونیا گاندھی کوجواب دیا ہے۔ کسی کا نام لیے بغیر، انہوں نے کہا کہ وقف (ترمیمی) بل پر سینئر اراکین کی طرف سے کئے گئے تبصرے افسوسناک ہیں اورپارلیمانی طرزعمل کے مطابق نہیں ہیں۔