قومی

جہاں ہوئے درجنوں اعلیٰ حکامMPs کا گاؤں

نئی دہلی، 25 نومبر (بھارت ایکسپریس): آج تک یہ سنا اور پڑھا جاتا ہے کہ فلانہ گاؤں میں اتنے افسران ہیں اور کچھ اور سیلیکشن کے بعد وہ گاؤں افسروں کا گاؤں کہلانے لگتا  ہے جیسے ماؤ ضلع کی مدھوبن تحصیل کا پہاڑی پور گاؤں۔

حالانکہ ماؤ کے سینکڑوں افسران ہندوستانی سروس میں کام کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں لیکن اس معاملے میں پہاڑی پور پہلے نمبر پر ہے۔ موضع کے کئی درجن لوگ اس وقت بھی عدلیہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ بھی ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر ہائی کورٹ تک۔

اتر پردیش کے ساتھ ساتھ ہندوستانی سیاست میں بھی ماؤ کی الگ پہچان رہی ہے۔ ماؤ کے کچھ دیہات ایسے ہیں جو ایم پیز کے گاؤں کے نام سے جانے جاتے ہیں، جب کہ ان دیہات کے درجنوں افسران انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس، اتر پردیش ایڈمنسٹریٹو سروس، جوڈیشری میں خدمات انجام دے چکے ہیں یا دے رہے ہیں۔ ماؤ ضلع کا سورج پور ایک ایسی گرام سبھا ہے جس کی مٹی میں تین ایم پی نے جنم لیا۔

جئے بہادر سنگھ 1957 میں بلیا لوکل باڈی سے قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ 1962 میں، گھوسی کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار کے طور پر لوک سبھا حلقہ سے ایم پی منتخب ہوئے۔ آزادی کے جنگجو جئے بہادر سنگھ نے اپنی سینکڑوں ایکڑ زمین دلتوں اور پسماندہ لوگوں میں تقسیم کی۔ وہ پپریڈیہ ٹرین ڈکیتی کے ماسٹر مائنڈ تھے۔

معاشیات پر درجنوں کتابوں کے مصنف اور اس وقت کے معروف ماہر معاشیات ویر بہادر سنگھ کو 1974 میں کانگریس نے راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر نامزد کیا تھا۔ انہوں نے بینکوں کی نجکاری میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے تحقیقی مقالے 150 سے زیادہ مختلف موضوعات پر شائع ہوئے اور ان کے مضامین 1950 کی دہائی سےبروز  منگل نیشنل ہیرالڈ میں شائع ہوتے تھے۔ وہ کیمبرج، وارسا، پیرس، بلغراد وغیرہ جیسی یونیورسٹیوں میں وزیٹنگ پروفیسر بھی رہے۔ اقوام متحدہ کے اقتصادی مشیر کی حیثیت سے وہ افریقہ کے انگریزی بولنے والے ممالک کی معاشی حالت کا تجزیہ کیا کرتے تھے۔

راجکمار رائے 1980 میں نتھو پور (مدھوبن) اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے منتخب ہوئے، 1984 کے لوک سبھا الیکشن میں کانگریس کے امیدوار کے طور پر گھوسی سے ایم پی منتخب ہوئے، 2012 میں سماج وادی پارٹی کی حکومت میں اتر پردیش سیڈ سرٹیفیکیشن بورڈ کے چیئرمین/ریاستی وزیر بنے۔ اعظم گڑھ کے مشہور وکیل راج کمار رائے غریب اور پسماندہ لوگوں کے مقدمات مفت لڑتے تھے اور ان کے آنے جانے  کا کرایہ بھی ادا کرتے تھے۔

امیلا گاؤں میں بھی دو ایم پیز پیدا ہوئے

پنڈت الگو رائے شاستری ایک ہندوستانی آزادی پسند، سیاست دان، ماہر تعلیم اور قانون ساز تھے۔وہ 1952 میں اعظم گڑھ سے کانگریس کے امیدوار کے طور پر پہلی لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے، جسے اب گھوسی لوک سبھا حلقہ کہا جاتا ہے۔ وہ ہندوستانی دستور ساز اسمبلی کے رکن تھے اور اتر پردیش کانگریس کے ریاستی صدر تھے۔ دستور ساز اسمبلی میں انہوں نے اپنی تقریر سے سب کو متاثر کیا۔

جھارکھنڈے رائے بھی امیلا گاؤں کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے جدوجہد آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ برطانوی دور حکومت میں انہیں 21 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے نصف درجن سے زائد کتابیں لکھیں۔

جھارکھنڈے رائے، 1957، 1962، 1967 میں گھوسی اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے اور وزیر رہے۔ وہ چوتھی لوک سبھا 1968، پانچویں لوک سبھا 1971، ساتویں لوک سبھا 1980 میں گھوسی لوک سبھا حلقہ سے کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار کے طور پر  بھی منتخب ہوئے۔

دیویندو رائے 

آزاد تبصرہ نگار اور سیاسی تجزیہ کار

Bharat Express

Recent Posts

Gold-Silver Price: تہواروں کے موسم میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی، سونا 1.48 لاکھ اور چاندی 2.12 لاکھ روپے سے کر گئی تجاوز

تہواروں اور شادیوں کے موسم میں صرافہ بازار میں قیمتی دھاتوں کے داموںمیں اضافہ ہو…

23 minutes ago

Bollywood Actors Firing Attacks: صرف ٹائیگر شروف ہی نہیں، ان اداکاروں کے گھروں پر بھی ہو چکی ہے فائرنگ، دیکھیں پوری فہرست

بالی ووڈ ستاروں پر حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا…

2 hours ago

Ecuador Church Accident Priest Cross Falls: چرچ میں دعائیہ اجتماع کے دوران صلیب گرنے سے پادری کی دردناک موت، دل دہلا دینے والا ویڈیو وائرل

ایکواڈور کے شہر گوایاکل میں پرپیتوو سوکورو چرچ میں دعائیہ اجتماع کے دوران دیوار پر…

3 hours ago

Weather Update: اگلے 12 گھنٹوں میں 9 ریاستوں میں شدید بارش اور طوفان کا الرٹ، 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی ہوائیں

موسم کی تازہ صورت حال: خلیج بنگال میں کم دباؤ کا علاقہ اور سرگرم موسمی…

3 hours ago

Tiger Shroff Juhu Firing Incident: جوہو میں ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ، 5 سے 7 راؤنڈ گولیاں چلنے سے افرا تفری، اداکار محفوظ

ممبئی کے جوہو علاقے میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر مبینہ فائرنگ…

4 hours ago