ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اب تک سونے چاندی، جواہرات اور اسمارٹ فونز یا لیپ ٹاپ وغیرہ کی اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ منشیات کی اسمگلنگ کسٹم حکام کی پکڑ میں آتی تھیں، تاہم اس واقعے میں کسٹم حکام کو جو چیزیں ملیں اس نے نہ صرف انھیں چونکا دیا، بلکہ دوسرے مسافروں کی حفاظت کے حوالے سے بھی سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔
یہ واقعہ ہفتے کی رات کا ہے جب تھائی لینڈ سے ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے والے ایک ہندوستانی شخص کے سامان کی تلاشی کے دوران کسٹم حکام کو 48 انتہائی زہریلے سانپ اور پانچ کچھوے ملے۔ حکام نے کہا ہے کہ ’’ہمیں سامان کی تلاشی کے دوران اڑتالیس انتہائی زہریلے سانپ اور پانچ کچھوے ملے ہیں۔‘‘
سانپوں کو ان کے ملک واپس بھیجا جائے گا: وائلڈ لائف کرائم کنٹرول بیورو
دریں اثنا RAWW (Resqink ایسوسی ایشن فار وائلڈ لائف ویلفیئر) کی ایک ٹیم نے ان سانپوں کی شناخت اور ان کی ہینڈلنگ میں مدد کی۔ وہیں وائلڈ لائف کرائم کنٹرول بیورو نے وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کی دفعات کے مطابق حکم دیا ہے کہ سانپوں کو اس ملک واپس بھیجا جائے گا، جہاں سے وہ لائے گئے ہیں۔ رینگنے والے جانوروں کو اس ملک میں واپس بھیجا جائے جہاں سے انہیں لایا گیا تھا۔
تاہم اس واقعے نے نہ صرف کسٹم حکام کو پریشان میں مبتلا کر دیا، بلکہ مسافروں کی حفاظت کے حوالے سے بھی سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ ایک مسافر جہاز میں ایسے زہریلے سانپوں کی اسمگلنگ نہ صرف ایک غیرقانونی جرم ہے بلکہ دیگر مسافروں کی حفاظت کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔ معاملے کی تحقیقات ابھی جاری ہے کہ وہ مسافر اتنے سانپوں کو لے کر جہاز پر سوار ہونے میں کس طرح کامیاب ہوا۔
بھارت ایکسپریس اردو
امت شاہ نے کہا کہ گجرات میں تعاون کی تحریک کو نئی سمت اور رفتار…
تیسرے کوارٹر میں انڈونیشیا نے ایک گول کیا، لیکن بھارت نے اس کے جواب میں…
مکسڈ مارشل آرٹس ان چھ نئے کھیلوں میں شامل ہے جنہیں آیچی-ناگویا ایشین گیمز میں…
3 ان 1 ٹی وی، او ٹی ٹی اور وائی فائی پلان کے نئے اور…
25 اور 26 ستمبر کو ہونے والی دو روزہ چوٹی کانفرنس میں خواتین صنعت کاروں،…
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں سیمسنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس…