نئی دہلی: دارالحکومت دہلی میں جامعہ ہمدرد نے اپنے 15ویں کنوکیشن تقریب کا اہتمام کیا اوراسے یادگاربنا دیا۔ یہ تقریب دہلی کے وگیان بھون میں منعقد کی گئی تھی۔ اس موقع پرجامعہ ہمدرد کے چانسلرحماد احمد، وائس چانسلرپروفیسرافشارعالم، رجسٹرارکرنل طاہرمصطفیٰ اورمہمان اعزازی کے طورپردبئی سے تشریف لائے ڈاکٹرکے پی حسین نے شرکت کی۔ اس تقریب میں مہمان خصوصی کے طورپرسپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس سوریہ کانت کوشرکت کرنی تھی، لیکن چیف جسٹس سوریہ کانت مصروفیات کی وجہ سے تقریب میں شرکت نہیں کرسکے۔ اس تقریب کی نظامت کی مکمل ذمہ داری جامعہ ہمدرد کے رجسٹرارکرنل طاہرمصطفیٰ نے انجام دیئے۔ ترانہ ٹیم نے خوبصورت ترانہ پیش کیا، جس کے بعد کنوکیشن کا آغازکیا گیا۔ دبئی سے تشریف لائے ڈاکٹرکے پی حسین کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے سرفرازکیا گیا۔
جامعہ ہمدرد کی یہ کنوکیشن تقریب طلبا کی تعلیمی زندگی سے متعلق ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی، جہاں خوشی، فخراورکامیابی کے جذبات نمایاں طورپردیکھنے کوملے۔ تقریب میں ملک کی مختلف معززشخصیات، مختلف شعبہ ہائے جات سے وابستہ سرکردہ شخصیات، اساتذہ کرام اورطلبا وطالبات کے اہلِ خانہ نے شرکت کی۔ اس موقع پرفارغ التحصیل طلبہ کوان کی محنت، لگن اورتعلیمی کامیابیوں کے اعتراف میں ڈگریاں تفویض کی گئیں۔ پورا ماحول مسرت اورفخرسے معمورتھا، جہاں ہرطالب علم کے چہرے پرکامیابی کی جھلک نمایاں تھی۔
وائس چانسلر نے پیش کی یونیورسٹی کی رپورٹ
جلسۂ تقسیمِ اسناد کے دوران وائس چانسلرپروفیسرافشارعالم نے یونیورسٹی کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے اپنی تقریرمیں طلبہ کوزندگی کے اگلے مرحلے کے لئے حوصلہ افزائی کی اورانہیں دیانت داری، علم دوستی اورجدت طرازی کواپنانے کی تلقین کی۔ وائس چانسلرپروفیسرافشارعالم مقررین نے اس بات پرزوردیا کہ جامعہ ہمدرد نے طلبا میں نہ صرف علمی مہارتیں پیدا کی ہیں بلکہ انہیں ایک ذمہ دارشہری بننے کے لیے بھی تیارکیا ہے۔ڈاکٹر کے پی حسین اعزازی ڈگری سے سرفرازجامعہ ہمدرد کے 15ویں کنوکیشن تقریب میں دبئی کے ڈاکٹرکے پی حسین نے بطورمہمان اعزازی شرکت کی۔ اس موقع پرانہیں جامعہ ہمدرد کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی پیش کی گئی۔ انہوں نے اعزازی ڈگری ملنے پرخوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لئے بہت اعزاز کی بات ہے کہ جامعہ ہمدرد جیسی یونیورسٹی کی طرف سے ہمیں اعزازی ڈگری پیش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یونیورسٹی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ساتھ ہی جامعہ ہمدرد کے ان سبھی طلبا وطالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، جن کوآج ڈگری تفویض کی گئی ہے۔ آج سے ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
طلبا وطالبات میں نظرآیا جشن کا ماحول
تقریب کا ہرلمحہ طلبہ کے تعلیمی سفرکی عکاسی کررہا تھا، خاص طورپروہ وقت جب طلبہ نے اپنی ڈگریاں وصول کیں، حاضرین کے لیے نہایت جذباتی اوریادگارثابت ہوا۔ یہ تقریب صرف تعلیمی کامیابی کا جشن نہیں تھی بلکہ نئی امیدوں، ذمہ داریوں اورمواقع کے آغاز کی علامت بھی بنی۔ آخرمیں جامعہ ہمدرد کی جانب سے تمام فارغ التحصیل طلبا وطالبات کوان کی شاندار کامیابی پردلی مبارکباد پیش کی گئی اوران کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہارکیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ شری کلکی دھام کی تعمیر کے لیے انہوں نے…
یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…