ہندوستان کی فوجی تاریخ میں 1971 کی پاک-بھارت جنگ اور 2025 کے آپریشن سندور دو مختلف ادوار کی عکاسی کرتے ہیں، جو جنگ کے طریقوں میں ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کے انقلاب کو ظاہر کرتے ہیں۔ 1971 کی جنگ، جو بنگلہ دیش کی آزادی کا باعث بنی، روایتی جنگ کی ایک مثال تھی، جہاں زمینی، فضائی اور سمندری محاذوں پر بڑے پیمانے پر لڑائی ہوئی۔ اس کے برعکس، آپریشن سندور، جو 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں دہشت گرد حملے کے جواب میں شروع کیا گیا، ایک جدید، درست اور غیر روایتی فوجی کارروائی تھی۔ یہ مضمون دونوں واقعات کا تقابل کرتا ہے، یہ بتاتے ہوئے کہ کس طرح نصف صدی میں جنگ کی نوعیت بدل گئی ہے۔
1971 کی جنگ: روایتی جنگ کا دور
1971 کی جنگ 3 دسمبر کو پاکستان ایئر فورس کے 100 سے زائد جنگی طیاروں کے ہندوستانی فضائی اڈوں پر حملوں سے شروع ہوئی۔ اس وقت استعمال ہونے والے زیادہ تر طیارے سب سونک، دوسری نسل کے جنگی جہاز اور بمبار تھے۔ فضائی لڑائی قریب سے ہوتی تھی، جہاں پائلٹس کو دشمن کے طیاروں سے 200 گز کے فاصلے پر گولہ باری کرنی پڑتی تھی۔ اس دور میں فضائی نگرانی اور مواصلات محدود تھے، اور جنگی حکمت عملی بنیادی طور پر پائلٹ کی مہارت اور طیاروں کی تعداد پر منحصر تھی۔ زمینی اور سمندری محاذوں کے ساتھ مل کر، ہندوستان نے 13 دنوں میں فیصلہ کن فتح حاصل کی، لیکن یہ بھاری جانی و مالی نقصانات کے ساتھ ممکن ہوا۔
آپریشن سندور: جدید جنگ کی علامت
7 مئی 2025 کو شروع ہونے والا آپریشن سندور ایک 25 منٹ کی درست فوجی کارروائی تھی، جس نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں نو دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس آپریشن میں چوتھی اور پانچویں نسل کے سپرسونک طیاروں، ڈرونز، اور 50 سے 250 میل رینج کے حامل درست ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ جدید ریڈارز اور فضائی نگرانی کے نظام (AWACS) نے ہندوستانی فورسز کو دشمن کے اہداف کو دور سے نشانہ بنانے کی صلاحیت دی، بغیر سرحد پار کیے۔ اس کے علاوہ، ڈیٹا لنکس اور خفیہ مواصلات نے آپریشن کو انتہائی موثر بنایا۔ یہ کارروائی دہشت گردی کے ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے تھی، نہ کہ روایتی فوجی تنازع کے لیے، جس سے ہندوستان کی غیر روایتی جنگ کی صلاحیت اجاگر ہوئی۔
جنگ کے نئے اصول اور مستقبل
آپریشن سندور نے ظاہر کیا کہ جدید جنگ اب روایتی ہتھیاروں یا بڑے پیمانے پر فوج کے بجائے ٹیکنالوجی، درست ہتھیاروں، اور معلومات کے انتظام پر منحصر ہے۔ ڈرونز، مصنوعی ذہانت، اور سائبر وارفیئر نے جنگ کے میدان کو بدل دیا ہے، جہاں کم وسائل سے زیادہ اثر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ 1971 کی جنگ نے ہندوستان کی فوجی طاقت کو ثابت کیا، آپریشن سندور نے اس کی اسٹریٹجک پختگی اور خود انحصاری کو عالمی سطح پر پیش کیا۔ مضمون یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اگرچہ روایتی جنگ ابھی مکمل طور پر متروک نہیں ہوئی، لیکن آپریشن سندور جیسے آپریشنز مستقبل کی جنگوں کا نمونہ پیش کرتے ہیں، جہاں درست کارروائی اور کم سے کم نقصان کے ساتھ سیاسی مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام میں سیاسی، سماجی اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی…
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…