قومی

Mutual Funds Investment: ہر ماہ 25,000 روپے کی ماہانہ ایس آئی پی یا 5 لاکھ روپے کی یکمشت سرمایہ کاری، 20 سال میں کس سے بنے گا زیادہ فنڈ؟

نئی دہلی : میوچوئل فنڈ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے ذہن میں اکثر یہ سوال رہتا ہے کہ ایک ساتھ بڑی رقم لگانا بہتر ہے یا ہر ماہ تھوڑی تھوڑی رقم کی سرمایہ کاری کرنا۔ دونوں طریقوں کے اپنے فوائد اور خطرات ہیں۔ اگر آپ کے پاس 5 لاکھ روپے ہیں تو آپ اس رقم کو یکمشت سرمایہ کاری کے طور پر لگا سکتے ہیں۔ وہیں، اگر آپ کی آمدنی باقاعدہ ہے تو ہر ماہ 25,000 روپے کی سسٹیمیٹک انویسٹمنٹ پلان (ایس آئی پی) بھی شروع کر سکتے ہیں۔ لیکن 20 سال میں کس طریقے سے کتنا بڑا سرمایہ جمع ہوسکتا ہے؟ آئیے حساب کتاب کے ذریعے سمجھتے ہیں۔

یکمشت سرمایہ کاری سے 20 سال میں کتنا فنڈ بنے گا؟

یکمشت سرمایہ کاری کا مطلب ہے کہ آپ اپنی پوری رقم ایک ہی بار میوچوئل فنڈ میں لگا دیتے ہیں۔ اس طریقے میں شروع ہی سے پوری رقم سرمایہ کاری میں شامل رہتی ہے اور اسے طویل مدت تک مارکیٹ میں بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ تاہم، اگر سرمایہ کاری کے وقت بازار بلند سطح پر ہو اور اس کے بعد گراوٹ آجائے تو ابتدائی برسوں میں نقصان بھی ہوسکتا ہے۔فرض کریں کہ آپ کسی ایکویٹی میوچوئل فنڈ میں 5 لاکھ روپے کی یکمشت سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اگلے 20 سال تک آپ کو سالانہ اوسطاً 12 فیصد منافع ملتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ کی سرمایہ کاری بڑھ کر تقریباً 48.23 لاکھ روپے ہوسکتی ہے۔اس میں آپ کی اصل سرمایہ کاری 5 لاکھ روپے ہوگی، جبکہ اندازاً منافع تقریباً 43.23 لاکھ روپے ہوگا۔ یعنی دو دہائیوں تک سرمایہ کاری برقرار رکھنے سے آپ کی ابتدائی رقم میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔

25,000 روپے کی ماہانہ ایس آئی پی سے کتنا سرمایہ جمع ہوگا؟

سسٹیمیٹک انویسٹمنٹ پلان یعنی ایس آئی پی کے ذریعے آپ ہر ماہ ایک مقررہ رقم میوچوئل فنڈ میں لگاتے ہیں۔ اس میں ایک ساتھ بڑی رقم لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ باقاعدہ وقفے سے تھوڑی تھوڑی رقم کی سرمایہ کاری کرکے طویل مدت میں بڑا سرمایہ جمع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔باقاعدہ تنخواہ یا کاروبار سے آمدنی حاصل کرنے والے افراد کے لیے یہ طریقہ آسان ہوسکتا ہے۔ بازار میں اتار چڑھاؤ کے دوران ایس آئی پی کے ذریعے مختلف قیمتوں پر فنڈ کی یونٹس خریدی جاتی ہیں، جس سے خریداری کی اوسط لاگت کو متوازن رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، اس طریقے سے نقصان سے بچنے یا مقررہ منافع ملنے کی ضمانت نہیں ہوتی۔اب فرض کریں کہ آپ ہر ماہ 25,000 روپے کی ایس آئی پی شروع کرتے ہیں اور اسے 20 سال تک جاری رکھتے ہیں۔ اس دوران آپ کی جانب سے کی جانے والی کل سرمایہ کاری 60 لاکھ روپے ہوگی۔ وہیں، اگر آپ کو سالانہ اوسطاً 12 فیصد منافع ملتا ہے تو آپ کا سرمایہ بڑھ کر تقریباً 2.49 کروڑ روپے ہوسکتا ہے۔اس میں آپ کی اصل جمع شدہ رقم 60 لاکھ روپے ہوگی، جبکہ اندازاً منافع تقریباً 1.89 کروڑ روپے ہوسکتا ہے۔ اس طرح باقاعدہ سرمایہ کاری اور مرکب منافع کے اثر سے طویل مدت میں بڑا سرمایہ جمع کیا جاسکتا ہے۔

دونوں سرمایہ کاری کے طریقوں میں کتنا فرق ہوگا؟

اب دونوں طریقوں کا موازنہ کریں تو دیے گئے اندازوں کے مطابق، 25,000 روپے کی ماہانہ ایس آئی پی سے 20 سال میں تقریباً 2.49 کروڑ روپے کا سرمایہ جمع ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب، 5 لاکھ روپے کی یکمشت سرمایہ کاری بڑھ کر تقریباً 48.23 لاکھ روپے ہوسکتی ہے۔ اس طرح دونوں کے آخری سرمائے میں تقریباً 2 کروڑ روپے کا فرق نظر آتا ہے۔لیکن یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔ دونوں طریقوں میں سرمایہ کاری کی کل رقم یکساں نہیں ہے۔ یکمشت سرمایہ کاری میں آپ صرف 5 لاکھ روپے لگاتے ہیں، جب کہ ماہانہ ایس آئی پی کے ذریعے 20 سال میں مجموعی طور پر 60 لاکھ روپے جمع کرتے ہیں۔ یعنی ایس آئی پی میں آپ 55 لاکھ روپے زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اس لیے صرف آخری سرمائے کا موازنہ کرکے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہوگا کہ ایس آئی پی ہر صورت میں یکمشت سرمایہ کاری سے بہتر ہے۔

یکمشت سرمایہ کاری بہتر ہے یا ایس آئی پی؟

یکمشت سرمایہ کاری میں پوری رقم پہلے دن سے ہی بازار میں سرمایہ کاری کے لیے دستیاب ہوتی ہے، جبکہ ایس آئی پی میں رقم بتدریج سرمایہ کاری میں شامل ہوتی ہے۔ اگر بازار طویل عرصے تک اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو شروع ہی میں پوری رقم لگانے سے فائدہ ہوسکتا ہے۔دوسری جانب، ایس آئی پی باقاعدہ آمدنی حاصل کرنے والے سرمایہ کاروں کو نظم و ضبط کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے اور بازار میں اتار چڑھاؤ کے باوجود سرمایہ کاری جاری رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔بازار کے ماہرین کے مطابق، یکمشت سرمایہ کاری اور ایس آئی پی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے سے پہلے اپنی مالی حالت، سرمایہ کاری کی مدت، خطرہ برداشت کرنے کی صلاحیت اور مالی اہداف کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر آپ کے پاس پہلے سے بڑی رقم موجود ہے تو یکمشت سرمایہ کاری پر غور کیا جاسکتا ہے، تاہم بازار میں غلط وقت پر رقم لگانے کے خطرے کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔وہیں، اگر آپ کو ہر ماہ تنخواہ یا کاروبار سے باقاعدہ آمدنی حاصل ہوتی ہے اور آپ طویل مدت میں دولت جمع کرنا چاہتے ہیں تو ایس آئی پی ایک آسان متبادل ہوسکتی ہے۔ سرمایہ کاری شروع کرنے سے پہلے ہنگامی ضروریات کے لیے مناسب بچت رکھنا اور زیادہ شرح سود والے قرض سے بچنا بھی اہم ہے۔اہم نوٹ: یہاں بتائے گئے منافع اور سرمایہ کی رقم محض اندازوں پر مبنی ہیں۔ میوچوئل فنڈ کی سرمایہ کاری بازار کے خطرات سے مشروط ہے، اور 12 فیصد سالانہ منافع کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi to visit Varanasi: سکھوئی، رافیل اور تیجس… آسمان میں نظر آئے گا ہندوستان کا دم، وزیر اعظم مودی کا دورۂ وارانسی

وارانسی میں پروگرام مکمل کرنے کے بعد وزیر اعظم پولیس لائن سے بابَت پور ہوائی…

11 minutes ago

Delhi-NCR, Air Pollution: دہلی-این سی آر میں بارش کے بعد بڑھی ٹھنڈ، کیا زہریلی ہوا سے بھی ملے گی راحت؟

دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح بھی تشویش بڑھا رہی ہے۔ 25 اکتوبر کو دستیاب…

1 hour ago

Italy Protests: اٹلی میں احتجاج کی آگ پھر بھڑک اٹھی، کئی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ہفتے کی شام سوشل میڈیا کے ذریعے ان…

2 hours ago

UP Special TET Exam: یوپی اسپیشل ٹی ای ٹی 2026 کی تاریخ کا اعلان، 31 اکتوبر سے ملیں گے ایڈمٹ کارڈ، جانیں مکمل شیڈول

یوپی اسپیشل ٹی ای ٹی 2026 کا امتحان 3 نومبر کو دو شفٹوں میں ہوگا۔…

11 hours ago