قومی

A Great Personality, Committed To Nation-Building: قوم کی تعمیر کے لیے وقف ایک عظیم شخصیت

قلمکار: نریندرمودی، وزیر اعظم ہند

 ایک خوبصورت قول ہے: ’’ورکچھ کبھو نہیں پھلبھروے،ندینہ سنچےنیر،پرمارتھکےکارنے، سادھندھراشریر، اسکا مطلب ہے کہ درخت اپنا پھل خود نہیں کھاتا اور دریا اپنا پانی خود ذخیرہ نہیں کرتا، یہ دونوں دوسروں کے فائدے کے لیے ہی وجود رکھتے ہیں۔ ہمارے سنتوں اور سادھوؤں نے ہمیں ہمیشہ یہ سکھایا ہے کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف زندگی، انفرادی کامیابیوں سے کہیں زیادہ بامقصد ہوتی ہے۔ اگر کوئی ایک ایسی شخصیت تھی جس میںیہ جذبہ مسلسل جھلکتا تھا، تو وہ شری اشوک سنگھل جی تھے۔

مورخہ 27 ستمبر سے ہم ان کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کا آغاز کر رہے ہیں تاکہ ایک ایسی شاندار شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں جنہوں نے روحانی جستجو، ثقافتی بیداری اور کئی دہائیوں پر محیط تنظیمی خدمات کو یکجا کیا۔

میں اسے اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں کہ مجھے اشوک جی کے ساتھ میل جول اور ان کی شفقت پانے کے بے شمار مواقع ملے۔ ابتدائی واقعات میں سے ایک کا تعلق 1981 سے ہے، جب میں ایک نوجوان کارکن کی حیثیت سے اپنی تنظیمی ذمہ داریاں نبھا رہا تھا۔ مجھے ان کا ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خط موصول ہوا۔ فطری طور پر، یہ میرے لیے ایک یادگار لمحہ تھا۔ انہوں نے ایک اہم آئندہ پروگرام کے بارے میں بات کی اور کچھ کام سونپے۔

کئی دہائیوں تک میں نے انہیں دن رات کام کرتے دیکھا۔ وہ دور دراز اور اکثر دشوارگزارعلاقوں کا طویل سفر کرتے تھے۔ وہ خاص طور پر گجرات کے قبائلی علاقوں کے دورے کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ ان کا ذہن مسلسل اس سوچ میں مصروف رہتا تھا کہ معاشرے کے پسماندہ اور محروم طبقات کے لیے مزید کیا کیا جا سکتا ہے۔ جب بھی ملک کا کوئی حصہ کسی قدرتی آفت کی زد میں آتا، اشوک جییا تو خود وہاں پہنچنے والوں میں سب سے آگے ہوتے یا پھر متاثرین کی مدد کے لیے کارکنوں کی رہنمائی کرنے والوں میں شامل ہوتے۔ 2001 کے کچھ کے زلزلے کے بعد ان کے ساتھ میرا اپنا تجربہ ناقابل فراموش ہے۔

دوسروں کے لیے ہمدردی اور دیکھ بھال کا یہ جذبہ اشوک جی میں زندگی کے ابتدائی دور ہی سے پیدا ہو گیا تھا۔ وہ ایک انتہائی ممتاز اور خوشحال خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد، شری مہاویر جی، ایک نامور منتظم تھے۔ ان کے ایک بھائی، شری بی پی سنگھل جی، پولیس افسر بنے اور بعد ازاں رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ ایک اور بھائی، شری وی پی سنگھل جی، تریپورہ کے چیف سیکرٹری رہے جب یہ ریاست نئی نئی تشکیل پائی تھی۔ خاندان کے دیگر افراد نے تجارت اور زراعت کے شعبوں میں کامیابی حاصل کی۔ لیکن کم عمری ہی سے اشوک جی کا رجحان کسی اور ہی سمت تھا۔۔ یعنی بھارت کی نشاۃِ ثانیہ اورماں بھارتی کے فرزندوں کو سربلندی اور وقار دلانا۔ پریاگ راج میں پرورش پانے کے دوران، اشوک جی اکثر گھنٹوں سنگم کے کنارے بیٹھا کرتے تھے۔ دریا تو انہیں فطری طور پر اپنی جانب متوجہ کرتا ہی تھا، لیکن وہاں آنے والے لوگ جیسے کہ سنت، سادھو اور عقیدت مندبھی ان کی دلچسپی کا باعث بنتے تھے۔ اس ماحول نے بھارت کی ثقافتی اقدار اور مزاج کے بارے میں ان کی سمجھ بوجھ کو پروان چڑھایا اور معاشرے کے لیے کچھ کرنے کے ان کے عزم کو مزید مستحکم کیا۔ دوسروں کے لیے جینے کی اسی خواہش نے انہیں آر ایس ایس کی جانب راغب کیا۔ انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو جوش و خروش، نظم و ضبط اور فرض شناسی کے جذبے کے ساتھ نبھایا۔

شری اشوک سنگھل جی نے مستقل مزاجی اور سخت محنت کے ذریعے مختلف اداروں اور تحریکوں کو پروان چڑھایا۔ انہیں ایک پرُاثر آواز اور ایسی خطابت کی صلاحیت عطا ہوئی تھی جو پورے مجمعے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی تھی۔ اپنے ساتھی کارکنوں کا خیال رکھنا بھی ان کی ایک نمایاں خوبی تھی۔ جو بھی شخص ان کے رابطے میں آیا، وہ ان کی حیرت انگیز سادگی کا معترف ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ سنت سماج کے ساتھ ان کا گہرا تعلق تھا اور وہ ملک بھر کے سنتوں اور سادھوؤں کے درمیان بے پناہ احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ وہ ان کے مشوروں کو اہمیت دیتے اور انتہائی احترام کے ساتھ ان کی بات سنتے تھے۔

مجھے دو ایسے واقعات یاد آتے ہیں جنہوں نے شری اشوک سنگھل جی کی عظیم شخصیت کو نمایاں کیا۔ پہلا واقعہ 1993 کا ہے، جب وشو ہندو پریشد نے امریکہ میں سوامی وویکانند کے شکاگو خطاب کے سو سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا۔ بیرونِ ملک ایسی کانفرنس منعقد کرنے کا وژن، اس کی منصوبہ بندی اور مختلف متعلقہ فریقین کو یکجا کرنے کا عمل اشوک جی کی تنظیمی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ دوسرا واقعہ سال 2000 کا ہے۔ ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کے شہرپورٹ آف اسپین میں عالمی ہندو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ان کی موجودگی نے دیگر مندوبین میں کس قدر جوش و خروش پیدا کر دیا۔ میرے خطاب کے بعد، ان کے تعریفی کلمات میرے لیے انتہائی جذباتی اور متاثر کن تجربہ تھے۔ میں نے ایک بار پھر دیکھا کہ کس طرح ان کی حوصلہ افزائی نے ہر کارکن میں زبردست توانائی بھر دی۔

شری اشوک سنگھل جی کا کوئی ذکر رام جنم بھومی تحریک میں ان کے اہم کردار کو یاد کیے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ 1991 میں بوٹ کلب ریلی میں ان کا خطاب یا تحریک کے عروج پر ایک زخمی اور خون آلودہ اشوک جی کی تصویرکوبھلا کون بھول سکتا ہے۔ آج، اگر ایودھیا میں ایک عظیم الشان رام مندر ہے، تو یہ ان جیسے قدآوروں کی وجہ سے ہے جنہوں نے اسے ممکن بنانے کی کوشش میں بے لوث طریقے سے خود کو غرق کیا۔ وہ ایودھیا میں رام مندر کی شکل اختیار کرتے ہوئے دیکھ کر سب سے زیادہ خوش ہوتے۔

شری اشوک سنگھل جی کی سوچ بہت واضح تھی اور ایک ایسا شعبہ جہاں یہ واضح طور پر دیکھا گیا ان کا یہ عقیدہ تھا کہ ہمارے معاشرے کو ہم آہنگی کی ضرورت ہے، بھائی چارے کے پیغام کی دوبارہ تصدیق کرنی ہوگی۔ انہوں نے سماجی اتحاد اور مساوات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا۔ ان کا پختہ یقین تھا کہ معاشرے میں کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں ہوسکتی اور ہر فرد یکساں عزت و احترام کا مستحق ہے۔ یہ ان کی سوچ تھی کہ ایودھیا میں رام مندر کی پہلی اینٹ شری کامیشور چوپال جی رکھیں گے، بہار سے تعلق رکھنے والے نچلی سطح کے وی ایچ پی کارکن جو سماج کے پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ کاشی میں ایک دھرم سنسد میں،انہوں نےفیصلہ کیا کہ ڈوم راجہ کو اعزاز سے نوازا جائے گا اور کمیونٹی کی مختلف کوششوں کے حصے کے طور پر ان کے ساتھ کام کرنے کے لیےآگےبڑھاجائےگا۔

قوم سازی سے آگے، شری اشوک سنگھل جی کے پاس دو شعبے تھے جو ان کے دل کے بہت قریب تھے: تعلیم (خاص طور پر ویدک تعلیم) اور موسیقی۔ وارانسی کے ممبر پارلیمنٹ کے طور پر، مجھے بہت فخر محسوس ہوتا ہے کہ میں جس شہر کی نمائندگی کرتا ہوں، ابدی کاشی، نے شری اشوک سنگھل جی کی زندگی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ان  کی تعلیم بی ایچ یو میں ہوئی تھی اور وہ ایک اچھے طالب علم کے طور پر بھی جانے جاتے تھے۔ وہ ایک لودیالیہ پہل سےبہت قربت رکھتےتھے، جس نےبنیادی تعلیم کو دور دراز کے دیہاتوں، خاص طور پر قبائلی برادریوں میں پھیلانے کے لیے کام کیا۔ وہ پڑھے لکھے ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے سامع بھی تھے اور وہ ہمیشہ چھوٹے کارکنوں کو زیادہ سےزیادہ مطالعہ کرنے کی نصیحت کرتےتھے۔

جو لوگ اشوک جی کو قریب سےجانتےتھےانہیں پتہ ہےکہ وہ کتنا اچھا گاتے تھے! مجھے ناگپور میں ہونے والی ملاقاتیں یاد آتی ہیں، جہاں وہ ایکل گیت گاتے، سب کو مسحور کر دیتے اور میٹنگ کا لہجہ ترتیب دیتے۔ 2015 میں ان کی 90 ویں سالگرہ کی تقریبات کے دوران ان کی ایک ویڈیووائرل ہوئی جس میں انہوں نے سب کو حیران کردیاتھا، انہوں نےکیا ہی گانا گایا تھا۔

ان کی صد سالہ یوم پیدائش پر، آئیے اس بات کو یقینی بنائیں کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ان کی عظمت کے بارے میں جانیں۔ اور آئیے اپنی قوم اور اپنے لوگوں کے لیے ان کے خوابوں کی تعبیر کے لیے اپنے عہد کی تجدید کریں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Narendra Modi, Prime Minister of India

Recent Posts

Mann Ki Baat: ’’فطرت کا تحفظ آسام میں مثبت تبدیلی لا رہا ہے…‘‘، ’من کی بات‘ میں پی ایم مودی کا خطاب

ہاتھی ماحولیاتی نظام یعنی ایکو سسٹم کو صحت مند اور متوازن رکھنے میں اہم کردار…

50 minutes ago

Sonam Wangchuk: سونم وانگچک نے حکومت پر اٹھائے سوال، کہا- عدالتی جانچ رپورٹ آخر منظرعام پر کیوں نہیں لائی جا رہی؟

وانگچک نے کہا کہ 24 ستمبر 2025 کو لداخ میں ’’یوم شہدا‘‘ منایا گیا تھا۔…

1 hour ago

Cricketers Story: کرکٹرز کی منفرد محبت کی کہانیاں: شادی سے پہلے بنے والد، کسی نے بچے کو قبول کیا تو کسی نے بیوی کو دے دی طلاق

کرکٹ کی دنیا میں کھلاڑیوں کی زندگی میدان کے اندر جتنی دلچسپ ہوتی ہے، میدان…

1 hour ago