تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کی پولیس فورس میں ڈائریکٹر جنرلز اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جیسے سینئر عہدوں پر 1,000 سے بھی کم خواتین تعینات ہیں اور پولیس سے وابستہ 90 فیصد خواتین نچلے عہدوں پر ہی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ اعداد و شمار انڈیا جسٹس رپورٹ (آئی جے آر) 2025 میں پیش کیے گئے ہیں، جو ٹاٹا ٹرسٹ کے ذریعہ شروع کی گئی تھی اور کئی سول سوسائٹی کی تنظیموں اور ڈیٹا پارٹنرز کے تعاون سے پولیس، عدلیہ، جیل اور قانونی امداد کے چار شعبوں میں ریاستوں کی کارکردگی کا پتہ لگانا اس کا مقصد ہے۔
کسی بھی ریاست نے خواتین کی نمائندی کے لیے طے ہدف پورا نہیں کیا
رپورٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں میں صنفی تنوع کے بارے میں بڑھتی ہوئی بیداری کے باوجود کسی ایک ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے نے بھی پولیس فورس میں خواتین کی نمائندگی کے لیے طے شدہ اپنا ہدف پورا نہیں کیا۔ منگل کو جاری کردہ آئی جے آر 2025 میں انصاف کی فراہمی کے معاملے میں کرناٹک کو 18 بڑے اور درمیانے درجے کی ریاستوں میں سب سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاست کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے 2022 میں بھی کرناٹک ہی اس معاملے میں سرفہرست تھا۔ کرناٹک کے بعد آندھرا پردیش، تلنگانہ، کیرالہ اور تمل ناڈو نے بہتر تنوع، انفراسٹرکچر اور تمام شعبوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
پولیس میں کام کر رہی ہیں تقریباً ڈھائی لاکھ خواتین، لیکن افسر رینک پر ایک ہزار سے بھی کم فائز ہیں
رپورٹ میں محکمہ پولیس میں صنفی تفاوت کو بھی نشان زد کیا گیا ہے۔ پولیس میں 2.4 لاکھ خواتین میں سے صرف 960 انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) رینک کی حامل ہیں، جب کہ 24,322 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ، انسپکٹر، یا سب انسپکٹر جیسے عہدوں پر فائز ہی اور حیرت انگیز طور پر 2.17 لاکھ خواتین کانسٹیبلری میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ مدھیہ پردیش سب سے زیادہ خواتین ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (DySPs) کے چارٹ میں 133 کے ساتھ سرفہرست ہے۔ تقریباً 78 فیصد تھانوں میں اب خواتین کے ہیلپ ڈیسک ہیں، 86 فیصد جیلیں ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولتوں سے آراستہ ہیں اور 2019 اور 2023 کے درمیان قانونی امداد پر فی کس اخراجات تقریباً دوگنا ہو کر 6.46 روپے تک پہنچ گئے ہیں۔
عدالتوں پر بھی ہے بھاری بوجھ
اسی عرصے میں ضلعی عدلیہ میں خواتین کا حصہ بھی بڑھ کر 38 فیصد ہو گیا ہے۔ تاہم ضلعی عدلیہ میں درج فہرست قبائل (STs) اور درج فہرست ذاتوں (SCs) کا حصہ بالترتیب 5 فیصد اور 14 فیصد ہی ہے۔ پولیس فورس میں ایس سی 17 فیصد اور ایس ٹی 12 فیصد ہیں۔ قانونی امداد تک رسائی کے لیے ایک اہم کڑی سمجھے جانے والے پیرا لیگل رضاکاروں (PLVs) میں پانچ سالوں کے دوران 38 فیصد کمی آئی ہے، فی لاکھ آبادی میں اب صرف 3 PLVs دستیاب ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک بھر میں جیلوں میں صرف 25 ماہر نفسیات دستیاب ہیں۔ آئی جے آر پورے نظام انصاف میں بنیادی ڈھانچے اور عملے کی سنگین کمیوں کو بھی نشان زد کرتا ہے۔ ہندوستان میں فی ملین افراد پر صرف 15 جج ہیں جو کہ لاء کمیشن کی 1987 کی 50 کی سفارش سے بہت کم ہیں۔ ہائی کورٹس 33 فیصد اور ضلعی عدالتیں 21 فیصد خالی آسامیوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے الہ آباد اور مدھیہ پردیش جیسی ہائی کورٹس میں فی جج 15,000 مقدمات تک کام کا بوجھ ہے۔
ضلعی عدالتوں کے جج اوسطاً 2,200 مقدمات نمٹا رہے ہیں۔ جیلوں میں بھیڑ بھاڑ ایک اور تشویش کا باعث ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتر پردیش میں ہر تین میں سے ایک جیل میں اس کی گنجائش سے 250 فیصد سے زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں۔ مزید برآں جیلوں میں طبی عملے کی دستیابی ناکافی ہے، قیدی ڈاکٹر کا تناسب تجویز کردہ 300:1 کے مقابلے میں 775:1 ہے۔ ہریانہ، مغربی بنگال اور اتر پردیش سمیت کئی بڑی ریاستوں میں یہ تناسب 1,000:1 سے زیادہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…