قومی

Hannan Mollah on Assam CM’s statement: ’’بھارت میں 85 فیصد ہندو نہیں رہ سکتے تھے…‘‘، آسام کے وزیر اعلیٰ کے بیان پر سی پی آئی لیڈر حنان ملا کا ردِعمل

نئی دہلی: سی پی آئی (ایم) کے لیڈر حنان ملا نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کے اس بیان پر زبردست جوابی حملہ کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آسام میں مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس سے آسام بنگلہ دیش بن جائے گا۔ سی پی آئی (ایم) کے لیڈر نے کہا کہ یہ ایک بیوقوفی بھرا بیان ہے، پوری طرح سے بیوقوفی بھرا۔ اگر یہ سچ ہوتا تو بھارت میں 85 فیصد ہندو نہیں رہ سکتے تھے۔

نئی دہلی میں آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے حنان ملا نے کہا کہ یہ آر ایس ایس کے لیے صرف ایک بہانہ ہے۔ فاشزم کے تین یا چار بنیادی اصول ہوتے ہیں۔ پہلا، اس کا مقصد جمہوریت کو مکمل طور پر ختم کرنا اور آئین کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ دوسرا، یہ ایک مخصوص برادری کو نشانہ بناتا ہے، اس کے خلاف نفرت پھیلاتا ہے اور دوسرے لوگوں کو اس برادری کے خلاف بھڑکاتا ہے۔ تیسرا، یہ جھوٹ پھیلاتا ہے۔ آپ جتنا زیادہ اعتماد کے ساتھ جھوٹ کو دہراتے ہیں،اتنے ہی زیادہ لوگ اس پر یقین کرنے لگتے ہیں۔

بھارت نے پہلے نہیں دیکھی تھی ایسی لنچنگ

انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی لنچنگ کے بارے میں بات کر چکے ہیں۔ بھارت نے پہلے ایسی لنچنگ نہیں دیکھی تھی۔ پہلی واردات بار بجرنگ دل جیسے گروپوں نے انجام دی، جن میں سنگھ جڑا تھا۔ بھارت میں مسلمانوں اور دلتوں کو بار بار لنچ کیا گیا ہے۔ ایسی 400 سے زیادہ واقعات ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس کے خلاف آواز اٹھنے اور سپریم کورٹ کی جانب سے کارروائی کی ہدایات کے باوجود، کئی ریاستوں میں حکمراں جماعت ہونے کے ناطے بی جے پی خاموش رہتی ہے یا ان حرکات کو درست ٹھہراتی ہے۔

فاشزم ایک مخصوص برادری کو بناتا ہے نشانہ

انہوں نے کہا کہ جس طرح بنگال میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسی طرح فاشزم کام کرتا ہے۔ ایک فاشسٹ نظریے کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے۔ یہ جمہوری طریقے سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سب سے پہلے یہ ایک مخصوص برادری کو نشانہ بناتا ہے، پھر سماج میں نفرت پھیلاتا ہے اور اس برادری کے خلاف لوگوں کو بھڑکا کر اپنی تنظیم مضبوط کرتا ہے۔ پاکستان میں جماعتِ اسلامی ایک دائیں بازو کی تنظیم ہے، جو بھارت میں آر ایس ایس جیسی ہے۔ آر ایس ایس بھی یہی کام کرتی ہے۔ سوویندو ادھیکاری اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا اپنا کردار کیا ہے، وہ دن رات بنگال میں مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔

سب اپنے سیاسی مفادات کے مطابق کرتے ہیں کام

پاکستانی حکام کی جانب سے نور خان ایئر بیس پر حملے سے متعلق بیان پر حنان ملا نے کہا کہ اگر کوئی افسر کھل کر بات کرتا ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ سچائی ہو سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اور پاکستان کے درمیان حملے مسلسل جاری رہیں گے؟ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر زبانی حملے جاری رکھنے پر انحصار کرتے ہیں۔ جب بھی پاکستان کوئی مؤقف اختیار کرتا ہے، بھارت کو جواب دینے کا موقع مل جاتا ہے، اور اس کے برعکس بھی یہی ہوتا ہے۔ یہ ایک مستقل پیٹرن بن چکا ہے۔ پڑوس میں ہم آہنگی ہونی چاہیے، لیکن سب اپنے اپنے سیاسی مفادات کے مطابق کام کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Bihar MLC Election: پی کے کی انٹری اور اننت سنگھ کی بغاوت، بہار قانون ساز کونسل کی 8 نشستوں پر انتخابات سے پہلے سیاسی ہلچل تیز

پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی نے تمام 8 نشستوں پر امیدوار اتارے ہیں، پٹنہ…

9 minutes ago

Congress’s Counterattack on Regime Change: ’رجیم چینج‘ پر کانگریس کا جوابی حملہ، کہا- ہم فخر سے کہتے ہیں، حکومت بدل کر رہیں گے

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’رجیم چینج‘…

60 minutes ago

Analysts Optimistic About Jio Platforms: جیو پلیٹ فارمز کے آئی پی او پر تجزیہ کار خوش، لسٹنگ پر 15-20فیصد اضافے کی توقع

ایمکے ریسرچ نے شرح نمو کے مقابلے میں مناسب قیمت کو دیکھتے ہوئے ’ سبسکرائب…

1 hour ago

Abhijit Dipke in Custody: ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے ابھیجیت دیپکے حراست میں، کناٹ پلیس جانے کی کر رہے تھے کوشش

ترنگا مارچ سے پہلے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں…

2 hours ago