قومی

Jamaat-e-Islami Hind: جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام علماء و فارغین مدارس کا پانچ روزہ اجتماع اختتام پذیر، دس نکاتی اعلامیے پر علماء کا اتفاق

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے مرکز، نئی دہلی میں شعبہ ’علماء و مساجد‘ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا پانچ روزہ اجتماع بعنوان ’امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز اور علماء و فارغین مدارس‘ بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوگیا۔ اجتماع میں ملک بھر سے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے 120 سے زائد علماء اور فارغین مدارس نے شرکت کی۔ اجتماع کے دوران حالات حاضرہ، ملکی و عالمی مسائل، امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے لیے علماء کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اختتامی اجلاس میں شرکاء نے دس نکاتی مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کیا اور اس پر مسرت کا اظہار کیا۔

عدل و قسط، اتحاد اور عصری آگہی کی اہمیت

اجتماع کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ہند، سید سعادت اللہ حسینی نے قیام عدل و قسط، اتحاد، عصری آگہی اور اعتدال کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اجتماع میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے ملکی و عالمی حالات کا جائزہ لیا، امت مسلمہ کو درپیش مسائل پر غور و فکر کیا اور ان کے حل کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں۔ ان تجاویز سے غور و فکر کے نئے دروازے کھلیں گے اور ہماری کوشش ہوگی کہ حتی المقدور ان پر عمل درآمد کیا جائے۔ امیر جماعت نے اجتماع کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ایک نمایاں کامیابی یہ ہے کہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے جزوی اختلافات کے باوجود باہمی محبت، اخوت اور اتحاد کے ساتھ وقت گزارا اور امت کو درپیش چیلنجز پر مشترکہ طور پر غور کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اجتماع میں پیدا ہونے والی محبت اور اتحاد کی فضا کو شرکاء اپنے اپنے علاقوں اور حلقوں میں بھی فروغ دیں گے، تاکہ امت کے اندر باہمی اعتماد، رواداری اور تعاون کو مزید مستحکم کیا جاسکے۔

دس نکاتی مشترکہ اعلامیے پر علماء کا اتفاق

اختتامی اجلاس میں شعبہ علماء و مساجد کے نیشنل سکریٹری ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے شرکاء کی جانب سے دس نکاتی مشترکہ اعلامیہ پیش کیا، جس پر تمام شرکاء نے اتفاق کیا اور اپنی خوشی و مسرت کا اظہار کیا۔ مشترکہ اعلامیے کے نکات درج ذیل ہیں:

1۔ دعوت دین: ہم اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، کیوں کہ یہ ہمارا فریضہ منصبی ہے۔

2۔ برادران وطن سے خوش گوار تعلقات: ہم مسلمانوں کو تلقین کریں گے کہ وہ برادران وطن کے ساتھ خوش گوار تعلقات قائم رکھیں، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں، ان کے دکھ درد میں شریک ہوں اور انسانی مسائل کے حل کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔

3۔ امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی: ہم ملک میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے حتی المقدور جدوجہد کریں گے۔

4۔ اصلاح معاشرہ: مسلم معاشرے میں اسلام کی حقیقی تعلیمات سے دوری اور مختلف سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ خطبات جمعہ، خطبات نکاح اور دیگر مواقع پر اپنے مواعظ و بیانات کے ذریعے مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام پر عمل کرنے اور غیر شرعی رسوم سے اجتناب کرنے کی تلقین کریں گے۔

5۔ نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت: نئی نسل کی دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں گے اور اس مقصد کے لیے مساجد اور دیگر مقامات پر بڑے پیمانے پر مکاتب قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔

6۔ مسلمانوں میں ثابت قدمی اور تعمیری فکر کا فروغ: اعلامیے میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ مسلمانوں کو ان کے دستوری حقوق سے محروم کیا جارہا ہے اور ان کے دین و ایمان، شعائر اور تشخصات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایسی صورت حال میں ہم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھنے اور بالخصوص مسلم نوجوانوں کو مایوسی اور جذباتیت، دونوں سے بچانے کی کوشش کریں گے۔ انہیں ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کریں گے۔

7۔ اتحاد امت: ہم اتحاد امت کو فروغ دینے اور امت کے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ جدوجہد کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

8۔ اختلاف مسالک میں آداب اختلاف کی پابندی: ہم مسالک کے اختلافات کو علمی گفتگو تک محدود رکھیں گے اور اختلافی مسائل کو عوامی سطح پر زیر بحث لانے سے حتی المقدور اجتناب کریں گے۔ اگر کسی موقع پر ان مسائل کا بیان ضروری ہو تو آداب اختلاف کو ملحوظ رکھیں گے۔

9۔ اختلافات اور تنازعات کا حل: اگر مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان اختلاف یا تنازعے کی صورت پیدا ہو تو ہم اسے ختم کرنے اور باہمی مفاہمت و اتحاد کو فروغ دینے کی کوشش کریں گے۔

10۔ عمل و کردار سے اسلام کی ترجمانی: ہم اپنے عمل اور کردار کے ذریعے اسلام کی حقیقی تعلیمات کی ترجمانی کریں گے۔ عوام کو جن باتوں کی تلقین کریں گے، خود بھی ان پر عمل کریں گے اور ایسے اقوال و اعمال سے اجتناب کریں گے جو اختلافات کو بڑھاوا دینے کا سبب بنیں۔ اجتماع کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ شرکاء مشترکہ اعلامیے میں طے شدہ امور کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Canadian Open: کینیڈا اوپن، انگلینڈ کی کھلاڑی کو شکست دے کر اناہت ’کینیڈین ویمنز اوپن‘ کے کوارٹر فائنل میں پہنچیں

موجودہ عالمی جونیئر چیمپئن اناہت کے سامنے اب کینیڈین اوپن کے کوارٹر فائنل میں ایک…

12 minutes ago

Emerging Science, Technology and Innovation Conclave: وزیراعظم مودی نے ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو 2026 کا کیا افتتاح

نئی دہلی میں 29 اکتوبر تک جاری رہنے والے سہ روزہ کانکلیو میں سائنس دان،…

23 minutes ago

Imran Khan Gets Interim Relief: بالی ووڈ اداکار عمران خان کو بامبے ہائی کورٹ سے عبوری راحت، بھارت چھوڑنے کے نوٹس پر روک

مرکزی حکومت کے نوٹس پر عمل درآمد اگلی سماعت تک معطل، اداکار کو 28 اکتوبر…

1 hour ago

Delhi Pollution: یکم نومبر سے دہلی میں پرانی گاڑیوں کی انٹری پر پابندی کی تیاری، 12 لاکھ گاڑیاں ہوں گی متاثر

دہلی میں سردیوں کے دوران آلودگی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کی تیاری،…

2 hours ago