بھارت کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور 2025 کے آخر تک اس کی جی ڈی پی 4 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ کامیابی بھارت کو عالمی معاشی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر لے آئے گی، جو 2014 میں دسویں پوزیشن سے ایک نمایاں چھلانگ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت تین سالوں میں جرمنی کو پیچھے چھوڑ کر تیسری سب سے بڑی معیشت بن سکتا ہے۔ اس وقت بھارت کی معیشت پاکستان سے دس گنا بڑی ہے، جبکہ مہاراشٹرا کی معیشت اکیلے پاکستان سے بڑی اور تمل ناڈو کی اس کے برابر ہے۔ بھارت کے اسٹاک ایکسچینجز (بی ایس ای اور این ایس ای) کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے 200 گنا زیادہ ہے۔ ایل آئی سی کے اثاثے ($640 بلین) پاکستان کے قومی قرض سے 2.5 گنا زیادہ ہیں، اور بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر ($680 بلین) پاکستان ($16 بلین) سے کہیں زیادہ ہیں۔
آپریشن سندور اور معاشی برتری
رپورٹ آپریشن سندور کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان معاشی تفاوت کو اجاگر کرتی ہے۔ آپریشن سندور نے نہ صرف بھارت کی فوجی طاقت بلکہ اس کی معاشی برتری کو بھی واضح کیا۔ بھارت کی معاشی ترقی اسے عالمی سطح پر ایک مضبوط مقام دیتی ہے، جبکہ پاکستان معاشی اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہے۔ موڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پاکستان کی معاشی ترقی، مالی استحکام، اور میکرو اکنامک صورتحال کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
$30 ٹریلین معیشت کا ہدف
بھارت کا طویل مدتی ہدف 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننا ہے، جو اسے عالمی سطح پر ایک سپر پاور بنائے گا۔ اس کے لیے بھارت کو بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ، اور ٹیکنالوجی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت کو عالمی سپلائی چینز میں گہری شمولیت، آزادانہ تجارت کے معاہدوں (ایف ٹی ایز)، اور پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم جیسے اقدامات کو فروغ دینا ہوگا۔ اس کے علاوہ، تعلیم، صحت، اور ہنر مندی کے پروگراموں میں سرمایہ کاری سے بھارت اپنی افرادی قوت کو مضبوط کر سکتا ہے۔
اصلاحات کا ایجنڈا
بھارت کو عالمی معاشی طاقت بننے کے لیے انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں تجویز دیا گیا ہے کہ ٹیکس نظام کو سادہ کیا جائے، سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنایا جائے، اور صنعتی پالیسیوں کو ہم آہنگ کیا جائے۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری سے بھارت عالمی ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ ریلوے، ایرو اسپیس، اور الیکٹرانکس جیسے شعبوں میں حالیہ پیش رفت، جیسے کہ گجرات میں سی-295 طیاروں کی فیکٹری اور اتر پردیش میں براہموس میزائل کی تیاری، اس سمت میں اہم اقدامات ہیں۔
چیلنجز اور مواقع
بھارت کو کچھ چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے کہ شہری طلب میں کمی اور عالمی تجارت میں اتار چڑھاؤ۔ تاہم، یورپی منڈیوں میں کیمیکل انڈسٹری کی مشکلات اور عالمی سپلائی چینز میں تبدیلی بھارت کے لیے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ بھارت کی معتدل تجارت پر انحصار اسے عالمی معاشی بحرانوں سے بچاتا ہے۔بھارت کی 4 ٹریلین ڈالر کی معیشت ایک عظیم کامیابی ہے، لیکن 30 ٹریلین ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کے لیے انقلابی اصلاحات، پالیسیوں میں تسلسل، اور عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔ بھارت کی معاشی، فوجی، اور سفارتی طاقت اسے عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی بناتی ہے، اور یہ ترقی اسے مستقبل میں ایک سپر پاور کے طور پر قائم کر سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…