نئی دہلی: نیٹ پیپر لیک معاملے پر جنتر منتر میں 36 روز تک جاری رہنے والی تحریک ختم ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے لیڈروں نے ہفتہ کے روز دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور حکومت کی جانب سے تحریک کے تمام اہم مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد ہوئی۔ ملاقات کے بعد پارٹی لیڈروں نے واضح کیا کہ اگرچہ احتجاج ختم ہو گیا ہے، لیکن 20 جولائی کو طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد کے معاملے میں قانونی لڑائی پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات کا کوئی طے شدہ ایجنڈا نہیں تھا اور یہ خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں دہلی پولیس کے اسپیشل کمشنر سمیت کئی اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے دہلی پولیس کو صاف طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ 20 جولائی کے مارچ کے دوران طلبہ پر مبینہ طور پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے والے ہر پولیس افسر اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکار کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
سوربھ داس کے مطابق ویڈیوز اور تصاویر میں ایسے کئی پولیس اہلکار اور آر اے ایف کے جوان نظر آئے ہیں جو مظاہرین کے سروں پر لاٹھیاں مارتے اور حد سے زیادہ طاقت استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام اہلکاروں کے خلاف جلد قانونی عمل شروع کیا جائے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس کارروائی میں متعدد طلبہ کے سر اور ہاتھ شدید زخمی ہوئے تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس مقصد کے لیے پارٹی نے ایک خصوصی ویب سائٹ بھی شروع کی ہے، جہاں متاثرہ افراد اپنی شکایات درج کرا سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف شکایات درج کرانے تک معاملہ محدود نہیں رہے گا بلکہ متعلقہ افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ اگر ضرورت پڑی تو پارٹی عدالت سے بھی رجوع کرے گی تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ان اہلکاروں کو جوابدہ بنایا جا سکے جو اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہے۔
سی جے پی کے لیڈرآشوتوش رانکا نے بھی دہلی پولیس کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو مثبت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں کے تمام واقعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ ان کے مطابق 20 جولائی کو جو کچھ پیش آیا وہ انتہائی افسوسناک تھا، تاہم وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے کئی مواقع پر تعاون بھی کیا، جس کی پارٹی نے تعریف کی ہے۔رانکا نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ ایک نئی شروعات ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق حکومت نے پارٹی کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، جن میں مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینا اور آئندہ کوئی نیا مقدمہ درج نہ کرنے کی یقین دہانی بھی شامل ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے نوجوانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہی کے تعاون اور حمایت کی بدولت یہ تحریک اپنے منطقی انجام تک پہنچی۔
واضح رہے کہ سی جے پی نے 36 روز تک جاری رہنے والا اپنا احتجاج مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور حکومت کی جانب سے دیگر تمام مطالبات منظور کیے جانے کے بعد ختم کرنے کا اعلان کیا۔ پارٹی کے مطابق حکومت نے نیٹ پیپر لیک تنازع کے بعد مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے اور احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لینے کے مطالبات سے بھی اتفاق کر لیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…
مشاق خان کی آخری رسومات میں بڑے فلمی ستاروں کی عدم شرکت پر رضا مراد…
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتے کے روز نئی دہلی میں…
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…