نئی دہلی : جنتر منتر میں کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) کے احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والی 15 سالہ لڑکی رُچیکا سنگھ نے عوامی طور پر معافی مانگ لی ہے۔ جمعہ کی دیر رات وزیر اعظم نریندر مودی نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران جن بچوں نے انہیں اور ان کی والدہ کو نازیبا الفاظ کہے، انہیں گلے لگانے اور صحیح راستہ دکھانے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچے گمراہ ہیں اور انہیں نفرت نہیں بلکہ رہنمائی کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کے اس پیغام کے چند گھنٹوں بعد ہی رُچیکا سنگھ کی معافی پر مبنی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی۔
’’میں ملک کے عوام سے معافی مانگتی ہوں‘‘
رُچیکا سنگھ کی معافی کی ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں وہ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی دکھائی دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس دن وہ جنتر منتر کے احتجاج میں گئی تھیں، وہاں کئی گروپ وزیر اعظم کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور نازیبا الفاظ استعمال کر رہے تھے۔ انہی لوگوں کے بہکاوے میں آ کر انہوں نے بھی وزیر اعظم کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی۔ رُچیکا نے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ ناقابلِ معافی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ملک کے عوام سے معافی کی درخواست کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے الفاظ پر بے حد شرمندہ ہیں، اس قدر کہ نظریں اٹھا کر بات بھی نہیں کر پا رہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ یہ ان کی پہلی اور آخری غلطی ہوگی اور عوام سے انہیں معاف کرنے کی اپیل کی۔
نوئیڈا میں مقدمہ درج
رُچیکا سنگھ کے خلاف سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد نوئیڈا پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کی ایک وکیل کی شکایت پر بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 352، 353(1) اور 356(1) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق رُچیکا اور ان کا خاندان فی الحال اپنے گھر سے غیر حاضر ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔
والدہ اور سیلون مالک کا بھی بیان
معافی کی ویڈیو سامنے آنے سے قبل رُچیکا کی والدہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پہلے ہی پولیس حکام کو تحریری معافی نامہ دے چکی ہیں اور اس واقعے پر انہیں شدید افسوس ہے۔ اسی معاملے میں اس سیلون کے مالک کا بیان بھی سامنے آیا، جہاں رُچیکا نے کچھ عرصہ کام سیکھنے کی کوشش کی تھی۔ سیلون مالک کے مطابق وہ صرف چند دن ہی وہاں آئیں، بعد میں آنا بند کر دیا اور بار بار کہنے کے باوجود اپنا آدھار کارڈ بھی جمع نہیں کرایا۔
ابھیجیت دیپکے نے کیا تھا دفاع
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے رُچیکا سنگھ کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ گالی دینا اخلاقی طور پر غلط ہو سکتا ہے، لیکن ہر صورت میں اسے جرم نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے لڑکی کے خلاف درج ایف آئی آر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات میں نوجوانوں کو سمجھانے اور ان کی رہنمائی کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ فوری طور پر فوجداری کارروائی کی جائے۔ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے تازہ ویڈیو پیغام میں خاص طور پر نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے معاشرے سے اپیل کی کہ گمراہ بچوں کو معاف کیا جائے، ان سے نفرت نہ کی جائے بلکہ محبت اور رہنمائی کے ذریعے انہیں صحیح راستہ دکھایا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…