چین کے صدر شی جن پنگ نے تبت کا اچانک ایک غیر معمولی دورہ کیا اور اس موقع پر خطے میں ’’علیحدگی پسندی‘‘ کے خاتمے کی ستائش کی۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب بیجنگ 90 سالہ جلاوطن دلا ئی لاما کے جانشین کے انتخاب کے حوالے سے ممکنہ تنازع کی تیاری کر رہا ہے۔ ہندوستان، جہاں دلا ئی لاما 1959 سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ یہ نہ صرف تبت کے روحانی اور سیاسی مستقبل بلکہ ہند-چین تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
لاسا کے تاریخی پوٹالہ پیلس کے سامنے منعقدہ ایک شاندار تقریب میں، جس میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں نے چینی پرچم لہرائے، پیپلز لبریشن آرمی کے فوجیوں نے رائفلوں کے ساتھ مارچ کیا، اور رنگ برنگے روایتی لباس میں ملبوس تبتی باشندوں نے روایتی رقص پیش کیے، شی جن پنگ نے بیجنگ کے مضبوط کنٹرول کی علامتی نمائش دیکھی۔ یہ تقریب تبت خود مختار خطے کے قیام کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی۔ پوٹالہ پیلس، جو کبھی دلا ئی لاماؤں کی سردیوں کی رہائش گاہ تھا، اب ایک سیاحتی مقام ہے، لیکن اس کی روحانی اہمیت تبت کے لوگوں کے لیے ناقابل انکار ہے۔ تقریب میں ہزاروں افراد، جن میں اسکول کے بچے بھی شامل تھے، نے منظم انداز میں تالیاں بجائیں، جبکہ شی جن پنگ اور ان کے پیشروؤں کی دو بڑی تصاویر اسٹیج کے اطراف میں نمایاں تھیں۔ یہ تقریب بیجنگ کی جانب سے تبت پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے عزم کا واضح مظہر تھی۔
شی جن پنگ کا یہ دورہ، جو کہ ان کا دوسرا صدارتی دورہ ہے اور کسی بھی چینی صدر کا تبت کا دوسرا دورہ ہے،چین کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دلا ئی لاما، جو ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں جلاوطن تبتی حکومت کے سربراہ ہیں، نے حال ہی میں اعلان کیا کہ ان کا جانشین روایتی تبتی بدھ مت کے طریقوں کے مطابق منتخب کیا جائے گا اور اس عمل میں چین کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اس بیان نے بیجنگ کو مشتعل کیا، جو دلا ئی لاما کو ’’علیحدگی پسند‘‘ قرار دیتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اسے دلا ئی لاما کے جانشین کے انتخاب کا اختیار حاصل ہے۔ ہندوستان میں جلاوطن تبتی کمیونٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس دورے کو چین کی جانب سے تبت پر اپنی گرفت کو مضبوط کرنے اور اس کی ثقافتی شناخت کو دبانے کی کوشش کے طور پر دیکھا۔ دلا ئی لاما کے دفتر کے ایک عہدیدار، تسٹن سمڈپ چھوکیاپا نے کہاکہ یہ دورہ چین کی جانب سے تبت کے قبضے کو جائز قرار دینے کی ایک اور کوشش ہے، خاص طور پر دلا ئی لاما کے اس اعلان کے بعد کہ ان کا جانشین آزاد دنیا میں پیدا ہوگا۔
شی جن پنگ نے لاسا میں حکام سے ملاقات کے دوران کہا کہ تبت کا نظم و نسق، استحکام اور ترقی سیاسی استحکام، سماجی ہم آہنگی، نسلی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی پر منحصر ہے۔ انہوں نے تبتی بدھ مت کو سوشلسٹ معاشرے کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جو کہ چین کی ’’سینی سائزیشن‘‘ پالیسی کا حصہ ہے۔ ہندوستان کے نقطہ نظر سے، یہ پالیسی تبتی ثقافت اور مذہبی روایات کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ جلاوطن تبتی پارلیمنٹ کے رکن ڈورجی تسٹن نے کہا، ’’چین کی یہ کوششیں تبتیوں کے دلوں اور دماغوں کو جیتنے میں ناکام رہی ہیں۔ یہ تقریب محض ایک پروپیگنڈا ہے، جو تبت کی آزادی کی جدوجہد کو دبانے کے لیے ہے۔‘‘ ہندوستان، جو تبت کے جلاوطنوں کی میزبانی کرتا ہے، اس معاملے میں ایک نازک توازن برقرار رکھتا ہے، کیونکہ وہ چین کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم، دلا ئی لاما کے جانشین کا تنازع ہند-چین تعلقات کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ ہندوستان تبتیوں کی روحانی آزادی کی حمایت کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
مقامی لوگوں نے کہا کہ افسران اور ملازمین مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ جب بھی…
سال 1564 میں جب آصف خان کی قیادت میں ایک بڑی مغل فوج نے گونڈوانا…
اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…
دوسری جانب ون ڈے سیریز میں بھارت کو سخت ٹکر دینے کے بعد ویسٹ انڈیز…
روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…