بین الاقوامی

World Mental Health Day: عالمی یومِ ذہنی صحت، دنیا میں ہر 7 میں سے 1 شخص ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار

نئی دہلی : عالمی یومِ ذہنی صحت ہر سال 10 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ دنیا میں تقریباً ہر 7 میں سے 1 شخص کسی نہ کسی ذہنی صحت کے مسئلے سے دوچار ہے۔ ادارے نے ذہنی صحت کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے کے لیے ایسے نظام کو فروغ دینے پر زور دیا ہے، جس میں مریضوں کے حقوق، ان کی پسند اور عزت و وقار کو ترجیح دی جائے۔ڈبلیو ایچ او نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ افراد جنہیں خود ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا رہا ہے، ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کو ہر سطح پر بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چاہے خدمات کی منصوبہ بندی ہو، انہیں لوگوں تک پہنچانا ہو یا ان میں اصلاحات کرنا ہوں، ایسے افراد کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ادارے کے مطابق، ذاتی تجربات رکھنے والے افراد اور ذہنی صحت کے نظام، پالیسی سازی اور تحقیق سے وابستہ ماہرین مل کر ایسا نظام تشکیل دے سکتے ہیں جو مریضوں کی ضروریات پر مبنی ہو، ان کے حقوق کا احترام کرے اور ان کی عزت و وقار کو اولین ترجیح دے۔ اس کے لیے کمیونٹی کی سطح پر خدمات کو مضبوط بنانے، علاج اور دیکھ بھال کا تسلسل برقرار رکھنے اور ہر رابطے کو بامعنی بنانے کی ضرورت ہے۔

طویل عرصے تک نفسیاتی اسپتالوں میں رکھنے کے نظام میں تبدیلی کی اپیل

عالمی یومِ ذہنی صحت سے قبل ڈبلیو ایچ او نے ایک نئی رہنما دستاویز جاری کی ہے۔ اس کا مقصد ممالک کو ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے ایسے روایتی نظام سے باہر نکلنے میں مدد دینا ہے، جس میں مریضوں کو طویل عرصے تک نفسیاتی اسپتالوں میں رکھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے ادارے نے کمیونٹی کی سطح پر ایسی دیکھ بھال کو فروغ دینے کی سفارش کی ہے، جو لوگوں کے حقوق اور ان کی ذاتی پسند کا احترام کرتی ہو۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق، ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار بہت سے افراد اب بھی بڑے نفسیاتی اسپتالوں اور سماجی نگہداشت کے اداروں میں رہ رہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً نصف افراد کو مہینوں، برسوں یا دہائیوں تک ان کی مرضی کے بغیر ان اداروں میں رکھا جاتا ہے، جس کے باعث ان کا بیرونی دنیا اور اپنے سماجی ماحول سے رابطہ محدود ہو جاتا ہے۔

کیا ہے ادارہ جاتی نگہداشت سے آزادی کا عمل؟

اس نظام میں تبدیلی کے عمل کو ’ڈی انسٹی ٹیوشنلائزیشن‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ایسے افراد کی مدد کرنا ہے جنہوں نے نفسیاتی اسپتالوں میں طویل عرصہ، یعنی 6 ماہ یا اس سے زیادہ وقت گزارا ہو، تاکہ وہ دوبارہ اپنی کمیونٹی میں واپس آ سکیں اور ایک بہتر زندگی گزارنے کے لیے ضروری دیکھ بھال، تعاون اور مواقع حاصل کر سکیں۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کی دیکھ بھال کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی شخص کو علاج حاصل کرنے کے لیے اپنی آزادی، عزت و وقار یا سماجی زندگی سے محروم ہونا پڑے۔

آزادی اور وقار کے ساتھ علاج ضروری: ڈبلیو ایچ او سربراہ

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے کہا، ’’ذہنی صحت کی مسلسل مدد حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو اپنی آزادی، عزت و وقار یا کمیونٹی میں اپنی جگہ نہیں چھوڑنی چاہیے۔‘‘انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ طویل مدتی ادارہ جاتی نگہداشت پر انحصار کم کریں اور ان اداروں پر ہونے والے اخراجات اور سرمایہ کاری کا رخ کمیونٹی کی سطح پر حقوق پر مبنی ذہنی صحت کی دیکھ بھال اور معاونت کی طرف تیزی سے موڑیں۔

صرف 9 فیصد ممالک نے کمیونٹی پر مبنی نظام اپنایا

ڈبلیو ایچ او کے مطابق، کئی ممالک کمیونٹی کی سطح پر ذہنی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن اس سلسلے میں پیش رفت تمام ممالک میں یکساں نہیں ہے۔ادارے کی ’مینٹل ہیلتھ اٹلس‘ رپورٹ کے مطابق، معلومات فراہم کرنے والے ممالک میں سے صرف 9 فیصد مکمل طور پر کمیونٹی پر مبنی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی جانب منتقل ہو سکے ہیں، جبکہ نصف سے زیادہ، یعنی 53 فیصد ممالک اب بھی اصلاحات کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نفسیاتی اسپتالوں میں داخل ہونے والے 28 فیصد مریض 6 ماہ سے زیادہ عرصے تک وہاں مقیم رہے۔ یہ اعداد و شمار ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں مزید اصلاحات اور مریضوں کو کمیونٹی میں مناسب سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔

ذہنی صحت کے مریضوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے پر زور

ذہنی صحت کے شعبے میں آزاد مشیر اور حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی گریس گٹیرا نے کہا کہ کمیونٹی پر مبنی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی جانب منتقلی کا عمل ان لوگوں کے ساتھ مل کر انجام دیا جانا چاہیے جو ادارہ جاتی نگہداشت سے گزرنے کے تجربے سے واقف ہیں، نہ کہ صرف ان کے لیے فیصلے کیے جائیں۔ان کے مطابق، ایسے افراد کی مہارت اور تجربات کو دیگر ماہرین کے علم کے ساتھ شامل کرنا ضروری ہے، تاکہ ایسی خدمات تشکیل دی جا سکیں جو مریضوں کی پسند، صحت یابی اور کمیونٹی کی زندگی میں ان کی شرکت کو فروغ دیں۔عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر ڈبلیو ایچ او نے حکومتوں اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ وہ ادارہ جاتی نگہداشت سے کمیونٹی پر مبنی ذہنی صحت کی خدمات کی جانب منتقلی کے عمل کو تیز کریں۔ اس کے ساتھ ذہنی صحت کے نظام کی تشکیل میں ان افراد کو بھی شامل کیا جائے جنہیں خود ان مسائل اور علاج کا ذاتی تجربہ حاصل ہے، تاکہ دیکھ بھال کا نظام زیادہ مؤثر، انسانی اور حقوق کا احترام کرنے والا بن سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

No defeat is taken lightly: ہم کسی بھی شکست کو ہلکے میں نہیں لیتے، گیند اور بلے کے درمیان برابری کا مقابلہ ضروری۔ گوتم گمبھیر

گوتم گمبھیر نے نوجوان تیز گیند باز مایانک یادو کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا…

4 minutes ago

Sports News: ویسٹ انڈیز نے تاریخی ہدف حاصل کرکے ریکارڈز کی جھڑی لگا دی، شائی ہوپ کے نام بھی بڑی کامیابی

دوسرے ٹی 20 مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔…

11 hours ago