بین الاقوامی

Why US And Europe Fear BRICS Expansion: ’’اب اقتصادی پابندیوں کا کوڑا نہیں چلے گا؟‘‘ برکس کی توسیع سے مغربی ممالک کیوں پریشان ہیں؟

برکس تنظیم کی مسلسل توسیع نے مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ اور یورپ کی تشویش بڑھا دی ہے۔ واشنگٹن اور برسلز کی سب سے بڑی فکر یہ نہیں ہے کہ برکس مغرب مخالف فوجی اتحاد بن رہا ہے، بلکہ اصل خدشہ یہ ہے کہ اس گروپ کے مضبوط ہونے سے دنیا کے ممالک کو امریکہ اور یورپی یونین کے اقتصادی اثر و رسوخ سے باہر نکلنے کا ایک نیا اور ٹھوس متبادل مل رہا ہے۔ اب تک عالمی مالیاتی نظام، تجارتی راستوں، بینکاری نظام اور عالمی معیشت پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا نمایاں غلبہ رہا ہے۔ جب بھی کوئی ملک ان کی پالیسیوں سے اختلاف کرتا ہے تو اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔

لیکن برکس کی توسیع نے اس صورتحال کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ بھارت، چین، روس، برازیل اور جنوبی افریقہ کے ساتھ سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات، مصر، ایتھوپیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے ساتھ آنے سے یہ تنظیم دنیا کی ایک بڑی آبادی اور معیشت کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایسے میں جب کسی ملک پر مغربی پابندیاں عائد ہوتی ہیں تو برکس کی وسیع منڈی، توانائی کے وسائل اور تجارتی نیٹ ورک اسے مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

کیا مغربی پابندیاں بے اثر ہو جائیں گی؟

اگرچہ مغربی پابندیاں راتوں رات بے اثر نہیں ہوں گی، لیکن ان کا اثر پہلے جیسا شدید نہیں رہ سکتا۔ یورپی یونین اور امریکہ نے روس اور دیگر ممالک پر کئی سخت پابندیاں عائد کی ہیں، جس کے باعث انہیں فوجی اور تکنیکی سازوسامان حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم برکس کے ذریعے رکن ممالک ڈالر کے بجائے اپنی مقامی کرنسیوں میں باہمی تجارت کو بڑھا رہے ہیں اور تیسرے ممالک کے ذریعے تجارت کے نئے راستے بھی تلاش کر رہے ہیں۔ اس سے مغربی ممالک کے اقتصادی دباؤ کے ہتھیار کی تاثیر کمزور پڑ رہی ہے۔

برکس کے تنوع اور اندرونی چیلنجز

تاہم برکس کو مکمل طور پر مغرب مخالف اتحاد سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ اس تنظیم کے اندر کئی داخلی اختلافات اور حدود موجود ہیں۔ تزویراتی اختلافات: بھارت اور چین کے درمیان تزویراتی اور سرحدی سطح پر مسابقت موجود ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ مختلف اقتصادی مفادات: بھارت اور برازیل جیسے ممالک مغربی ممالک کے ساتھ اپنے تاریخی اور مضبوط تجارتی تعلقات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتے۔ ان کی ترجیح ایک ایسی کثیر قطبی دنیا اور آزاد خارجہ پالیسی کی حمایت کرنا ہے، جس میں کسی ایک طاقت کا عالمی نظام پر مکمل غلبہ نہ ہو۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Sports News: ویسٹ انڈیز نے تاریخی ہدف حاصل کرکے ریکارڈز کی جھڑی لگا دی، شائی ہوپ کے نام بھی بڑی کامیابی

دوسرے ٹی 20 مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔…

9 hours ago

LG Swaraj Dweep visit: ایل جی ڈاکٹر دنیش شرما کا دورہ جزائر انڈمان و نکوبار: ہاپ آن ہاپ آف بس سروس کا آغاز اور اہم اعلانات

جزائر انڈمان اور نکوبار کے لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے سوراج دیپ کا دو…

10 hours ago

PMEGP Scheme: پی ایم ای جی پی اسکیم سے کامیاب کاروبار کھڑا کیا، شاکر خان بنے کئی لوگوں کے لیے روزگار فراہم کرنے والے

مرکزی حکومت کی وزیر اعظم روزگار تخلیق پروگرام اسکیم سے چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کو…

11 hours ago