بین الاقوامی

ایران پر نئے حملے کے خلاف کیوں ہے سعودی عرب؟ ٹرمپ کو کیوں دیا پیچھے ہٹنے کا مشورہ؟ جانئے پوری تفصیل

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ  سے ایران پرنئے فوجی حملے نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، دونوں لیڈران کے درمیان ہفتے کے روزٹیلی فون پربات چیت ہوئی، جس میں محمد بن سلمان نے خبردارکیا کہ اگرامریکہ نے ایران پردوبارہ حملہ کیا توپورے خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے توانائی کے مراکزکونشانہ بنانے پرغورکررہے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی، جب ایران نے اردن میں قائم امریکی فوجی اڈے پرمیزائل حملہ کیا، جس کے بعد آبنائے ہرمزسے گزرنے والے بحری جہازوں کی آمد ورفت بھی متاثرہوئی۔

وژن 2030 پرسعودی عرب کی نظر

سعودی عرب کی سب سے بڑی ترجیح وژن 2030 منصوبہ ہے، جس کا مقصد ملک کی معیشت کوصرف تیل پرمنحصررکھنے کے بجائے سرمایہ کاری، تجارت، توانائی، لاجسٹکس، سیاحت اورجدید ٹیکنالوجی کا عالمی مرکزبنانا ہے۔ سعودی فوج کے سابق بریگیڈیئرجنرل عبداللہ بن فرح الشایا کے مطابق، وژن 2030 ملک کا سب سے اہم قومی منصوبہ ہے۔ اگرخلیج میں بڑی جنگ چھڑتی ہے توغیرملکی سرمایہ کاری کم ہوسکتی ہے، سیاحت متاثرہوگی اورمعاشی ترقی کی رفتاربھی سست پڑسکتی ہے۔

ایران کی دھمکی سے تشویش میں اضافہ

ایران پہلے ہی خبردارکرچکا ہے کہ اگرامریکہ نے اس پرنئے حملے کئے تووہ صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ خلیجی ممالک میں موجود توانائی کے منصوبوں اوردیگراہم تنصیبات کوبھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ گرچہ سعودی عرب امریکہ کا قریبی اتحادی ہے، لیکن اس باروہ جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعہ مسئلے کا حل چاہتا ہے۔ اسی لئے ریاض نے واشنگٹن سے فوجی کارروائی سے گریزکرنے کی اپیل کی ہے۔

حوثی تنازعہ سے حاصل ہونے والا سبق

امریکی محکمہ دفاع کی سابق عہدیداراورمغربی ایشیا کی ماہرڈانا اسٹرول کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کئی برس تک جنگ لڑی، جس سے اسے یہ سبق ملا کہ ہرمسئلے کا حل صرف فوجی طاقت نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق امریکہ اوراسرائیل نے بھی کئی فوجی کارروائیاں کیں، لیکن حوثی باغیوں کا خطرہ مکمل طورپرختم نہیں ہوا۔ اگرسعودی عرب دوبارہ کسی بڑے علاقائی تنازعہ میں الجھتا ہے تووژن 2030 کوشدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سفارتی کوششیں بھی جاری

دوسری جانب، ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے پاکستان، ترکیہ اورسعودی عرب کی قیادت سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرامریکہ یا اسرائیل نے ایران پرحملہ کیا، یا کسی ملک نے ایسے حملوں کی حمایت کی، توتہران اس کا سخت جواب دے گا۔ دوسری جانب، قطردونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ قطری حکام امریکہ، ایران اورعمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمارہونے والی آبنائے ہرمزکودوبارہ مکمل طورپربحال کیا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Kiren Rijiju Targets Rahul Gandhi: ’اب ڈرامہ بند کیجیے…‘، کرن رجیجو کا راہل گاندھی پر سخت حملہ، پی ایم مودی سے سیکھنے کا مشورہ

راہل گاندھی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ انہیں وزیر اعظم…

21 minutes ago

Adani Swirl Transit Hotel: نوی ممبئی ایئرپورٹ پر اڈانی گروپ نے شروع کیا Swirl ٹرانزٹ ہوٹل، اب ایئرپورٹ کے اندر ہی آرام اور کام کی سہولت

ملک کی سب سے بڑی نجی ایئرپورٹ آپریٹر کمپنی اڈانی ایئرپورٹس ہولڈنگز لمیٹڈ (AAHL) نے…

53 minutes ago

Eknath Shinde met PM Modi: وزیر اعظم مودی سے ملے ایکناتھ شندے، خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کے لیے مرکز سے بڑی مالی مدد کی امید

مہاراشٹر میں خشک سالی کی سنگین صورتحال پر تقریباً ایک گھنٹے تک ہوئی بات چیت،…

1 hour ago

Singer Sunita Rao Story: سونیتا راؤ نے 90 کی دہائی کے ہٹ گانے کا سنایا قصہ، کہا- ’’غلط سنگر کو دیا گیا تھا کریڈٹ‘‘

فلم ’کھلاڑیوں کا کھلاڑی‘ میں ریوینا ٹنڈن کے علاوہ سابق ڈبلیو ڈبلیو ایف، جو اب…

2 hours ago