نئی دہلی/لندن: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد گزشتہ دس برسوں میں 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ چھوڑنے والے وہ چھٹے وزیراعظم بن گئے۔ استعفے کا اعلان کرتے ہوئے وہ جذباتی بھی نظرآئے۔ برطانیہ میں 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ تقریباً تین سو برس سے وزرائے اعظم کی سرکاری رہائش گاہ رہی ہے۔ ونسٹن چرچل نے یہاں تقریباً نو برس، مارگریٹ تھیچر نے تقریباً بارہ برس اور ٹونی بلیئر نے تقریباً ایک دہائی تک قیام کیا۔ تاہم 2016 کے بعد صورت حال یکسر بدل گئی۔ اس عرصے میں چھ وزرائے اعظم تبدیل ہو چکے ہیں، جبکہ صرف چار برس کے دوران چار مختلف شخصیات نے اس منصب کی ذمہ داری سنبھالی۔
برطانیہ میں وزیراعظم کیسے تبدیل ہوتا ہے؟
برطانیہ میں عوام براہِ راست وزیراعظم کا انتخاب نہیں کرتے بلکہ ہاؤس آف کامنز کے ارکان منتخب کرتے ہیں۔ جس جماعت کو اکثریت حاصل ہوتی ہے، اس کا رہنما وزیراعظم بنتا ہے۔ اگر حکمران جماعت کے ارکان اپنے رہنما پر اعتماد کھو دیں تو جماعت اندرونی انتخاب کے ذریعے نیا قائد منتخب کر سکتی ہے، جس کے بعد موجودہ وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑتا ہے، چاہے عام انتخابات نہ بھی ہوئے ہوں۔
بریگزٹ سے سیاسی بحران کا آغاز
سیاسی عدم استحکام کا آغاز 2016 میں بریگزٹ ریفرنڈم سے ہوا، جب اُس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے برطانیہ کی یورپی یونین میں رکنیت برقرار رکھنے کے لیے عوامی رائے شماری کرائی۔ نتائج ان کی توقعات کے برخلاف آئے اور عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے استعفیٰ دے دیا۔
تھریسا مے سے بورس جانسن تک
کیمرون کے بعد تھریسا مے وزیراعظم بنیں، لیکن بریگزٹ پر اپنی ہی جماعت کے اختلافات کے باعث 2019 میں مستعفی ہو گئیں۔ اس کے بعد بورس جانسن نے ’’گیٹ بریگزٹ ڈن‘‘ کے نعرے کے ساتھ اقتدار سنبھالا، مگر کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران ہونے والی سرکاری تقریبات سے متعلق پارٹی گیٹ تنازع اور دیگر الزامات کے باعث انہیں بھی استعفیٰ دینا پڑا۔
45 دن کی وزیراعظم لِزٹرس
بورس جانسن کے بعد لِزٹرس وزیراعظم بنیں، لیکن ان کے متنازع ’منی بجٹ‘ کے باعث مالیاتی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی اور انہیں محض 45 دن بعد ہی منصب چھوڑنا پڑا، جو برطانوی تاریخ کا مختصر ترین دورِ وزارتِ عظمیٰ ہے۔
رشی سونک کی حکومت
اس کے بعد بھارتی نژاد رشی سونک وزیراعظم بنے۔ انہوں نے اقتدار سنبھالتے وقت پانچ بڑے وعدے کیے، جن میں افراطِ زر پر قابو پانا اور معیشت کو مستحکم کرنا شامل تھا۔ تاہم وہ قومی قرض، قومی صحت کے نظام میں انتظار کی طویل فہرست اور غیر قانونی تارکین وطن کی آمد روکنے جیسے وعدے پورے نہ کر سکے۔ بالآخر جولائی 2024 کے عام انتخابات میں ان کی جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
کیئر اسٹارمر بھی دباؤ کا شکار
جولائی 2024 میں لیبر پارٹی نے کیئر اسٹارمر کی قیادت میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، لیکن دو برس سے بھی کم عرصے میں ان کی حکومت پر بھی دباؤ بڑھ گیا۔ بلدیاتی انتخابات میں خراب کارکردگی، پارٹی کے اندر اختلافات اور متعدد سینئر رہنماؤں کے استعفوں کے باعث ان کی پوزیشن کمزور ہوتی گئی، جس کے بعد انہوں نے 22 جون 2026 کو استعفیٰ دے دیا۔
اگلا وزیراعظم کون؟
اس دوران ریفارم یو کے اور اس کے رہنما نائجل فراج کو اگلے وزیراعظم کے مضبوط دعوے دار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، لیکن حالیہ ضمنی انتخاب میں شمالی انگلینڈ کے میکر فیلڈ حلقے سے اینڈی برنہم کی نمایاں کامیابی نے سیاسی منظرنامہ بدل دیا۔ اینڈی برنہم نے ریفارم یو کے کے امیدوار کو شکست دے کر لیبر پارٹی کے حوصلے بلند کر دیے ہیں، جس کے بعد انہیں پارٹی کی نئی قیادت کے لیے مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔
9 جولائی سے قیادت کے انتخاب کا عمل
برطانیہ میں اگلے عام انتخابات 2029 میں متوقع ہیں، تاہم اس سے قبل لیبر پارٹی اپنے نئے رہنما کا انتخاب کرے گی۔ اپنے الوداعی خطاب میں کیئر اسٹارمر نے کہا کہ لیبر پارٹی کی قومی ایگزیکٹو کمیٹی (این ای سی) 9 جولائی سے نامزدگیوں کا عمل شروع کرے گی، جو پارلیمنٹ کی 16 جولائی سے شروع ہونے والی گرمیوں کی تعطیلات سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔ اگر اینڈی برنہم کو کوئی مضبوط چیلنج درپیش نہ ہوا تو امکان ہے کہ 17 جولائی تک برطانیہ کو اپنا نیا وزیراعظم مل جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…
دوسری جانب ون ڈے سیریز میں بھارت کو سخت ٹکر دینے کے بعد ویسٹ انڈیز…
روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…