ٹوکیو: جاپان میں اتوار کے روز لوور ہاؤس (ایوان زیریں) کے عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہو گیا، جسے بڑے پیمانے پر وزیر اعظم سانی تاکائچی کی قیادت پر ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ووٹرز حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کی قیادت والی حکومت اور حزبِ اختلاف کے اتحاد کے درمیان انتخاب کر رہے ہیں۔ جاپانی اخبار دی جاپان ٹائمز کے مطابق یہ انتخابات نہ صرف موجودہ حکومت کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے بلکہ آئندہ برسوں میں جاپان کی سیاسی سمت کا بھی تعین کریں گے۔ یہ الیکشن ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک پہلے ہی سیاسی بے یقینی کے دور سے گزر رہا ہے، اور گزشتہ تقریباً تین برسوں میں چار وزیر اعظم تبدیل ہو چکے ہیں۔ اسی پس منظر میں یہ انتخاب غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
اکثریت کا ہدف اور سنائی تاکائچی کا امتحان
وزیر اعظم سنائی تاکائچی کی جماعت ایل ڈی پی نے اپنے اتحادی جاپان انوویشن پارٹی (JIP) کے ساتھ مل کر سادہ اکثریت حاصل کرنے کو کامیابی کا معیار مقرر کیا ہے۔ 465 رکنی ایوان زیریں میں سادہ اکثریت کے لیے کم از کم 233 نشستیں درکار ہیں۔ اگر ایل ڈی پی اکیلی 233 یا اس سے زیادہ نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ سانی تاکائچی کے لیے ایک فیصلہ کن فتح سمجھی جائے گی، جس سے ان کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہوگی اور ایوانِ زیریں میں ان کی گرفت مزید مستحکم ہو جائے گی۔ تاہم اگر ایل ڈی پی اور جے آئی پی کا اتحاد مجموعی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس صورت میں سانی تاکائچی کو وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونا پڑ سکتا ہے، جو جاپان کو ایک بار پھر سیاسی عدم استحکام کی طرف دھکیل دے گا۔
رائے عامہ کے سروے اور انتخابی اندازے
انتخابات سے قبل کیے گئے میڈیا سرویز کے مطابق ایل ڈی پی اکیلے اکثریت حاصل کرنے کی راہ پر گامزن دکھائی دے رہی ہے، جبکہ حزب اختلاف کے نئے اتحاد سنٹرِسٹ ریفارم الائنس (CRA) کو خاصی مشکلات کا سامنا ہے اور اسے نمایاں نقصان اٹھانے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سنٹرِسٹ ریفارم الائنس دراصل کنسٹی ٹیوشنل ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان اور کومیتو کے اشتراک سے وجود میں آیا ہے، جس نے 200 سے زائد واحد نشستوں والے حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ اس اتحاد نے اپنا ہدف ایوانِ زیریں میں سب سے بڑی اپوزیشن قوت بننا قرار دیا ہے۔
تنازعات کے باوجود ایل ڈی پی کو برتری
رپورٹ کے مطابق کئی تنازعات کے باوجود وزیراعظم تاکائچی کی جماعت کی مقبولیت برقرار ہے۔ ان تنازعات میں کمزور ین کی حمایت سے جڑی بیانات، خوراک پر کنزمپشن ٹیکس میں کٹوتی پر غیر واضح موقف، اور جاپان–امریکہ اتحاد سے متعلق غیر رسمی تبصرے شامل ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران سنائی تاکائچی نے وعدہ کیا کہ وہ اہم صنعتوں میں سرکاری سرمایہ کاری بڑھائیں گی، جاپان کی عالمی اقتصادی مسابقت کو بحال کریں گی اور امیگریشن پالیسی کو مزید سخت بنائیں گی۔
جاپان انوویشن پارٹی کے لیے کڑا امتحان
جے آئی پی کے لیے یہ انتخابات ایک بڑا امتحان سمجھے جا رہے ہیں، کیونکہ پارٹی کی روایتی طاقت اوساکا تک محدود رہی ہے اور وہ قومی سطح پر اپنی موجودگی بڑھانے میں مشکلات محسوس کر رہی ہے۔ اوساکا میں ایل ڈی پی اور جے آئی پی کے درمیان 19 واحد نشستوں پر براہِ راست مقابلہ ہو رہا ہے، جبکہ جے آئی پی کو مقامی انتخابات کا بھی سامنا ہے۔ پارٹی کے قائد اور گورنر ہیروفومی یوشیمورا اور میئر ہیدیئوکی یوکویاما شہر کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے منصوبے کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا مقصد اوساکا کو جاپان کا متبادل دارالحکومت بنانا ہے۔ سنٹرِسٹ ریفارم الائنس نے سنائی تاکائچی پر مدت اقتدار کے صرف ایک تہائی حصے کے بعد قبل از وقت انتخابات کرانے پر سخت تنقید کی ہے۔ اتحاد نے حالیہ مالی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کو حکومت کی مالی پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد کی علامت قرار دیا، خاص طور پر خوراک پر ٹیکس میں ممکنہ کمی کے اعلان سے بانڈ مارکیٹ میں بے چینی پیدا ہوئی۔
نشستوں کی تفصیل اور نتائج کی توقع
یہ انتخابات غیر معمولی موسمی حالات میں منعقد ہو رہے ہیں۔ مشرقی اور شمالی جاپان میں شدید سردی اور برف باری نے انتخابی مہم کو متاثر کیا، جس کے باعث کھلے میدان میں مہم چلانا مشکل ہو گیا۔ یہ گزشتہ 36 برسوں میں پہلی بار ہے کہ جاپان میں لوئر ہاؤس کے انتخابات سردیوں کے موسم میں ہو رہے ہیں۔ مجموعی طور پر 465 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے، جن میں 289 واحد نشستوں والے حلقوں سے اور 176 متناسب نمائندگی کے ذریعے منتخب کی جائیں گی۔ پولنگ اسٹیشن شام 8 بجے بند ہونے کے بعد میڈیا کی جانب سے ابتدائی اندازے اور نتائج جاری کیے جانے کی توقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…