امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیووِٹکوف نے کہا ہے کہ صدرڈونالڈ ٹرمپ بدھ کووائٹ ہاؤس میں ایک اہم میٹنگ کرنے والے ہیں۔ ٹائمس آف اسرائیل نے فاکس نیوزکے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اس ملاقات میں ٹرمپ جنگ کے بعد غزہ کے انتظام کے لیے ایک جامع منصوبے پر بات کریں گے۔ ٹائمس آف اسرائیل کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے جب وِٹکوف نے جنگ کے بعد کے انتظام کے لیے امریکی منصوبے کے وجود کا انکشاف کیا ہے۔
اسٹیو وٹکوف نے کیا کہا؟
اسٹیووٹکوف نے فاکس نیوزکودیئے گئے ایک انٹرویومیں کہا، “بہت سے لوگ دیکھیں گے کہ یہ کتنی مضبوط اورنیک نیت ہے اوریہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے انسانی مقاصد کوواضح کرتی ہے۔” وٹکوف نے جنگ بندی معاہدہ پرٹرمپ انتظامیہ کے سرکاری پوزیشن کوبھی دوہرایا۔ حال ہی میں امریکہ کے ڈونالڈ ٹرمپ نے بڑا بیان بھی دیتے ہوئے غزہ میں اسرائیل کے حملوں کا بچاؤ کیا تھا۔ امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کے حملے قتل عام نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کواسرائیل میں بہت برا ہوا تھا۔ حماس کے جنگجوؤں نے وہاں تباہی مچا دی تھی اوراسی کے نتیجے میں غزہ میں جنگ ہورہی ہے۔
غزہ میں حالات انتہائی ابتر
غزہ کی محکمہ صحت کے افسران کا کہنا ہے کہ اکتوبر2023 سے غزہ پراسرائیل کے تباہ کن حملے میں 62,000 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے اورتقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ میں بھکمری کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ بین الاقوامی عدالتوں میں اسرائیل پرقتل عام اورجنگی جرائم کے الزامات لگے ہیں۔ پوری دنیا وقتاً فوقتاً اسرائیلی حملے کی مذمت کرتی رہی ہے، لیکن بنجامن نیتن یاہو پراس کا کوئی اثرنہیں ہوا ہے اور وہ مسلسل غزہ میں معصوم شہریوں کا قتل عام کررہا ہے۔
کیوں شروع ہوئی جنگ؟
حماس نے 7 اکتوبر، 2023 کو اسرائیل پردہشت گردانہ حملہ کیا تھا، جس کے بعد جنگ شروع ہوئی تھی۔ حملے میں اسرائیل کے 1,200 افراد کا قتل کردیا گیا تھا اور 251 لوگوں کویرغمال بنالیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیل نے پلٹ وارکیا اورجوابھی تک جاری ہے۔ لیکن ایک سب سے بڑی مایوس کن اورافسوسناک بات یہ ہے کہ اسرائیل مسلسل معصوم شہریوں کونشانہ بنا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے کئی باراسپتالوں پر بھی حملہ کیا۔ حال میں الناصراسپتال پربھی حملہ کیا، جس میں 5 صحافیوں سمیت 20 افراد ہلاک ہوگئے۔