واشنگٹن: امریکہ اور جاپان نے سائبر سلامتی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں اضافہ، اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو مضبوط بنانے، ہند-بحرالکاہل خطے میں سائبر جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائی اور پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی (PQC) کو تیزی سے اپنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
گیارہویں امریکہ-جاپان سائبر ڈائیلاگ میں اہم فیصلے
یہ اتفاق رائے واشنگٹن میں 30 جون اور یکم جولائی کو منعقد ہونے والے 11ویں امریکہ-جاپان سائبر ڈائیلاگ کے بعد جاری مشترکہ بیان میں سامنے آیا۔ مذاکرات کی میزبانی امریکہ نے کی، جبکہ امریکی محکمۂ خارجہ کے بیورو آف ایمرجنگ تھریٹس اور بیورو آف ایسٹ ایشیا اینڈ پیسیفک افیئرز نے اس کی مشترکہ صدارت کی۔ جاپان کی جانب سے وزارتِ خارجہ اور نیشنل سائبر سکیورٹی آفس نے مذاکرات کی قیادت کی۔
مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور انٹیلی جنس شیئرنگ پر زور
مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے سائبر اسپیس میں درپیش خطرات سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مقصد کے لیے نئی ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت (AI) سے فائدہ اٹھانے، معلومات کے تبادلے کو مزید مؤثر بنانے، باہمی عملی ہم آہنگی بڑھانے اور محفوظ و خودمختار کلاؤڈ انفراسٹرکچر کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ فریقین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرکاری اور غیر سرکاری عناصر سے پیدا ہونے والے پیچیدہ سائبر خطرات کے بارے میں معلومات اور تجزیے کا تبادلہ کیا جائے گا، جبکہ اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور بدنیتی پر مبنی سائبر سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق انٹیلی جنس بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔
ہند-بحرالکاہل میں سائبر جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائی
امریکہ اور جاپان نے ہند-بحرالکاہل خطے میں سائبر جرائم اور آن لائن دھوکہ دہی کے مراکز کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں، سفارتی ذرائع اور ضرورت کے مطابق نجی شعبے کے اشتراک سے کارروائی کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے خطے کے دیگر ممالک میں سائبر دفاع اور سائبر مزاحمتی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے تکنیکی تعاون کو مربوط بنانے اور پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی کو تیزی سے نافذ کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
مستقل رابطے اور مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اور جاپان سائبر پالیسی، آپریشنز، تکنیکی تعاون اور نجی شعبے کے ساتھ اشتراک کے مختلف شعبوں میں قریبی رابطہ برقرار رکھیں گے۔ مذاکرات کے دوران طے کی گئی ترجیحات پر عمل درآمد کے لیے آئندہ بھی باقاعدہ مشاورت اور رابطہ جاری رکھا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…