بین الاقوامی

US Imposes Major Sanctions on Iran’s Oil Trade: ایران کے تیل کاروبار پر امریکہ کی بڑی پابندیاں، کئی کمپنیاں اور جہاز نشانے پر

واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل کاروبار کے خلاف ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے کئی کمپنیوں، افراد اور جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ عناصر ایران سے متعلق مصنوعات کی خرید و فروخت اور شپمنٹ کو آسان بنانے میں مدد فراہم کر رہے تھے۔

ایران کی ’غیر قانونی تیل معیشت‘ کو نشانہ

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے ان متعدد کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی ہے جو ایران کی ’غیر قانونی تیل معیشت‘ سے منسلک تھیں۔ محکمہ کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد ایران کی اس آمدنی کو روکنا ہے جسے وہ اپنی عسکری سرگرمیوں اور خطے میں ’عدم استحکام پیدا کرنے والی‘ کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔

شپنگ کمپنیاں اور تجارتی نیٹ ورک بھی زد میں

یہ کارروائی ایک وسیع پابندی پیکیج کا حصہ ہے، جس کے تحت ان تاجروں، شپنگ کمپنیوں اور جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن پر ایرانی پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی نقل و حمل کا الزام ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا، ’’آج کی کارروائی ان تین کمپنیوں اور ان کے ایک اہم عہدیدار کو بھی نشانہ بناتی ہے جو ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تجارت میں ملوث تھے۔‘‘ محکمہ کا کہنا ہے کہ ایسی کمپنیاں ایران کی حکومت کو ’اہم مالی وسائل‘ فراہم کرتی ہیں۔

کئی ممالک کی کمپنیاں پابندیوں کی زد میں

یہ پابندیاں قطر، سنگاپور، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور مارشل آئی لینڈز میں قائم کمپنیوں پر عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے آٹھ جہازوں کی انتظامی کمپنیوں اور آٹھ جہازوں کو بھی ممنوعہ اثاثوں کے طور پر نامزد کیا، یہ الزام لگایا کہ وہ ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی خرید، فروخت، نقل و حمل اور مارکیٹنگ میں ملوث تھے۔

ایرانی تیل کی خفیہ شپمنٹ کا الزام

محکمہ خارجہ کے مطابق، ایران اپنی برآمدات کو مختلف ممالک میں پھیلے شپنگ نیٹ ورک کے ذریعے روانہ کرتا ہے۔ بعض جہازوں پر الزام ہے کہ وہ ’غیر قانونی سرگرمیوں‘ اور دیگر خفیہ طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ایرانی سامان کی ترسیل کر رہے تھے۔

آئی آر جی سی کو فنڈنگ کا بھی دعویٰ

اس دوران امریکی محکمہ خزانہ نے ایک ایسے تیل فروخت نیٹ ورک پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جس پر ایران کے کروڑوں بیرل تیل کی نقل و حرکت میں مدد دینے کا الزام ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، یہ نیٹ ورک براہ راست ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی)، ایرانی مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر اور فوجی نظام کے دیگر حصوں کو مالی مدد فراہم کر رہا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

INDIA Bloc Meeting: انڈیا بلاک کے لیڈر پھر ہوں گے ایک پلیٹ فارم پر! 30 ستمبر کو میٹنگ، CEC گیانیش کمار کے خلاف حکمتِ عملی پر ہوگی بحث

SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…

17 minutes ago

Milk Price Hike: مہنگائی کی زوردار مار! ٹونڈ ملک سے دہی تک سب کچھ مہنگا، جانیے تازہ ریٹ

جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…

1 hour ago

SIR Controversy: ایس آئی آر پر این ڈی اے میں پھوٹ کے آثار! بی جے پی کے 3 بڑے اتحادی الیکشن کمیشن کے سامنے، مانگی وضاحت

چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…

2 hours ago

Amit Shah Tribute: وزیر داخلہ امت شاہ کا خراج عقیدت: تیسرے پاتشاہ شری گرو امرداس جی کے جوتی جوت دیوس پر پیش کیا نمن

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سکھ مذہب کے تیسرے گرو، شری گرو امرداس جی…

2 hours ago