بین الاقوامی

US Ambassador Segio Gor India essential partner: تبدیل ہو گیا امریکہ کا لہجہ:  نئے سفیر سرجیو گور نے کہا— بھارت سے زیادہ ضروری کوئی ملک نہیں، تجارتی معاہدے پر کل پھر ہوگی بات

امریکہ کے نئے سفیر سرجیو گور نے کہا ہے کہ بھارت سے زیادہ اہم کوئی ملک نہیں ہے۔ انہوں نے دہلی میں عہدہ سنبھالتے ہوئے اپنی پہلی تقریر میں بھارت–امریکہ تعلقات کو نہایت مضبوط قرار دیا۔ گور نے کہا کہ دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت (امریکہ) اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت (بھارت) کے درمیان شراکت داری اس صدی کی سب سے اہم شراکت داری بن سکتی ہے۔ سرجیو گور ڈونالڈ ٹرمپ کے بے حد قریبی مانے جاتے ہیں۔ وہ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں فنڈ جمع کرنے سے لے کر وائٹ ہاؤس میں اہم عہدوں پر تقرریوں تک کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے اگست 2025 میں انہیں بھارت کا سفیر نامزد کیا تھا اور اب 12 جنوری 2026 کو انہوں نے دہلی میں باضابطہ طور پر اپنا عہدہ سنبھالا۔

’نمستے‘ کہہ کر کی پہلی تقریر کی شروعات

اپنی پہلی تقریر میں گور نے ’نمستے‘ کہہ کر آغاز کیا۔ انہوں نے بھارت کو ایک غیر معمولی ملک قرار دیا اور یہاں کام کرنے کو اعزاز بتایا۔ انہوں نے نریندر مودی اور ڈونالڈ ٹرمپ کی دوستی کو حقیقی دوستی قرار دیا۔ گور نے کہا،’’سچے دوست اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن آخرکار اپنے اختلافات حل کر ہی لیتے ہیں۔‘‘انہوں نے ٹرمپ کے 2020 کے بھارت دورے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ٹرمپ جلد بھارت آ سکتے ہیں، ممکن ہے آئندہ ایک یا دو برس میں۔

بھارت–امریکہ ٹریڈ ڈیل پر بات چیت جاری

تجارت پر گفتگو کرتے ہوئے سرجیو گور نے کہا کہ بھارت–امریکہ ٹریڈ ڈیل پر بات چیت مسلسل جاری ہے اور کل (13 جنوری) اگلی کال ہوگی۔ دونوں ممالک اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ اگرچہ یہ کام آسان نہیں ہے، لیکن دونوں فریق پوری کوشش کر رہے ہیں۔ تجارت کے علاوہ سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی، توانائی، ٹیکنالوجی، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں بھی تعاون کو مزید بڑھایا جائے گا۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان کتنا تجارتی لین دین ہوا؟

ٹیرف کے باوجود 2025 میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2024-25 (FY25) میں دونوں ممالک کے درمیان مجموعی تجارت تقریباً 132 بلین ڈالر (تقریباً 11 لاکھ کروڑ روپے) رہی۔ بھارت نے امریکہ کو 86.51 بلین ڈالر کی برآمدات کیں، جبکہ امریکہ سے 45.33 بلین ڈالر کی درآمدات ہوئیں۔ اس طرح بھارت کو تقریباً 41 بلین ڈالر کا تجارتی فائدہ (ٹریڈ سرپلس) حاصل ہوا۔

دونوں ممالک ایک دوسرے سے کیا خریدتے اور فروخت کرتے  ہیں؟

بھارت سے امریکہ بنیادی طور پر الیکٹریکل مشینری اور آلات، دواسازی کی مصنوعات، جواہرات و زیورات، مشینری، معدنی تیل اور لوہے و اسٹیل سے بنی اشیا خریدتا ہے۔ وہیں امریکہ سے بھارت زیادہ تر معدنی ایندھن (تیل اور گیس)، مشینری، ایرو اسپیس مصنوعات، کیمیکلز اور دیگر تیار شدہ اشیا درآمد کرتا ہے۔ یہ دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہونے کی امید ہے۔ امریکہ کے نئے سفیر سرجیو گور نے اعلان کیا کہ اگلے مہینے بھارت کو امریکہ کے Pax Silica گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی، جو سیمی کنڈکٹر اور اے آئی سپلائی چین کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

6 minutes ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

13 minutes ago

Manisha Bhanwala Makes History: منیشا بھنوالا نے رقم کی تاریخ، عالمی کشتی چیمپئن شپ میں ہندوستان کو دلایا پہلا طلائی تمغہ

ہندوستانی خاتون پہلوان منیشا بھنوالا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے قزاقستان کے آستانہ میں جمعہ…

1 hour ago