بین الاقوامی

Russia-Ukraine War: امن مذاکرات کے چند گھنٹے بعد ہی یوکرین روسی ڈرون حملے سے لرز اٹھا، 15 افراد ہلاک

نئی دہلی :روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے ایک بار پھر سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اتوار کو اعلان کیا کہ روس، یوکرین اور امریکہ کی حمایت سے ہونے والی سہ فریقی مذاکرات کا نیا دور اگلے ہفتے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں منعقد ہوگا۔ زیلنسکی کے مطابق یہ اہم ملاقات چار اور پانچ فروری کے درمیان ہوگی، جس میں جنگ کے خاتمے اور دیگر اہم امور پر غور کیا جائے گا۔ صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یوکرین سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روسی جارحیت کو روکنے کے لیے یوکرین مسلسل جدوجہد کر رہا ہے، قابل ذکربات یہ ہےکہ وہ سفارتی حل کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین ایسی بات چیت چاہتا ہے جو محض رسمی نہ ہو بلکہ زمینی حقائق اور دیرپا امن کی بنیاد رکھے۔
ابتدائی اطلاعات میں ہلاکتوں کی تعداد بارہ بتائی گئی تھی، قابل ذکر بات یہ ہے  کہ بعد میں یوکرینی ہنگامی خدمات نے تصدیق کی کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر پندرہ ہو گئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بس ٹرنیوکاکس بے کے قریب چل رہی تھی، جو فرنٹ لائن سے تقریباً پینسٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حملے کی شدت کے باعث بس کو شدید نقصان پہنچا اور موقع پر ہی کئی افراد کی موت ہوگئی۔ ۔حکام کے مطابق نشانہ بننے والی بس یوکرین کی سب سے بڑی نجی توانائی کمپنی ڈی ٹی ای کے کی تھی۔ کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ بس میں سوار تمام افراد اس کے مائننگ پلانٹ میں کام کرتے تھے اور اپنی شفٹ مکمل کرنے کے بعد گھروں کو واپس جا رہے تھے۔ کمپنی نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔

اسی دوران یوکرین کے نائب وزیر اعظم اولیکسی کولیبا نے ملک میں جاری شدید سردی اور توانائی بحران پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دارالحکومت کیف میں تقریباً سات سو اپارٹمنٹ عمارتیں ہیٹنگ کے بغیر رہ گئی ہیں۔ ملک کے بیشتر حصوں میں شدید سرد موسم ہے اور درجہ حرارت منفی پندرہ ڈگری سیلسیس تک جا رہا ہے۔ ہفتے کے روز بجلی کے گرڈ میں خرابی کے باعث کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہو گئی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اسے براہ راست جنگ سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا رہا، لیکن اس صورتحال نے یوکرین کے توانائی نظام کی کمزوری ضرور اجاگر کر دی ہے۔

 سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست کے بعد روس توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے پر آمادہ ہو گیا ہے، جسے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ زمینی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ اطلاعات کے مطابق یوکرین کے شہر نپرو میں ایک رہائشی مکان پر ڈرون حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسی طرح جاپوریزیا میں ایک میٹرنٹی اسپتال اور قریبی رہائشی علاقے پر حملے کے نتیجے میں نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔یوکرین کی نجی توانائی کمپنی ڈی ٹی ای کے نے بتایا کہ اس نے اوڈیسا کے جنوبی ساحلی علاقے میں تقریباً تین لاکھ گھروں میں بجلی بحال کر دی ہے، جو گرڈ کی خرابی سے شدید متاثر ہوئے تھے۔ کییف کی وزارتِ توانائی کے مطابق نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے جنوری کے مہینے میں روزانہ ریکارڈ مقدار میں بجلی درآمد کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ابوظہبی میں ہونے والی آئندہ ملاقات نہ صرف جنگی صورتحال بلکہ توانائی بحران اور انسانی مسائل کے حل کے لیے بھی نہایت اہم ثابت ہو سکتی ہے، اور عالمی برادری کی نظریں ان مذاکرات کے نتائج پر جمی ہوئی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو 

Abu Danish Rehman

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

4 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

4 hours ago