یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی
کیف: یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ یوکرینی افواج نے روس کے اندر واقع اہم فوجی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد روس کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ روس کے شہر ساراتوف میں محاذ سے تقریباً 600 کلومیٹر دور واقع ساراتوف آئل ریفائنری اور اینگلز فوجی ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ کالوگا خطے میں لیودینووسکایا آئل ڈپو کے فیول اسٹوریج مرکز پر بھی حملہ کیا گیا، جبکہ بریانسک کے علاقے میں ایک ایسے مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں مبینہ طور پر حملہ آور ڈرونز کو ذخیرہ، تیار اور لانچ کیا جاتا تھا۔ زیلنسکی نے یوکرین کی دفاعی افواج کی طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوکرین ’’جنگ کو اسی جگہ واپس لے جا رہا ہے جہاں سے اس کا آغاز ہوا تھا۔‘‘
یوکرین کے 16 علاقوں پر روسی حملوں کا دعویٰ
صدر زیلنسکی نے ایک الگ بیان میں کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روس نے یوکرین کے 16 علاقوں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ ان کے مطابق اس عرصے میں روس نے تقریباً 1,900 ڈرونز، 1,600 فضائی بم اور 144 مختلف اقسام کے میزائل داغے، جن میں بیلسٹک میزائل بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی سومی علاقے پر فضائی بمباری کی گئی، جبکہ بروواری میں ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق خارکیف اور اس کے اطراف مسلسل حملوں کی زد میں رہے، جبکہ اوڈیسا، زاپوریژیا اور دنیپرو کے علاقوں پر بھی رات بھر حملے کیے گئے۔ زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ ہفتے بھر کی کارروائیوں میں 1,500 سے زائد مقامات کو نقصان پہنچا، جن میں سیکڑوں رہائشی عمارتیں بھی شامل ہیں۔
روس پر مزید سخت پابندیوں کا مطالبہ
یوکرینی صدر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ روس کے دفاعی اور عسکری صنعتی نظام پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ روس میں ڈرونز، میزائلوں اور گائیڈڈ فضائی بموں کے پرزے تیار کرنے والے متعدد ادارے اب بھی پابندیوں سے محفوظ ہیں۔ زیلنسکی نے کہا، ’’روس کے دفاعی صنعتی شعبے کے ہر حصے پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہی دباؤ بالآخر ہمارے شہریوں پر ہونے والے حملوں میں کمی لانے میں مدد دے گا۔ پابندیوں کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے اور ان پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد بھی ہونا چاہیے۔‘‘
پیٹریاٹ دفاعی نظام کی فراہمی کا دوبارہ مطالبہ
اس پیش رفت کے درمیان صدر زیلنسکی نے مغربی اتحادی ممالک سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کو پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے مزید انٹرسیپٹر میزائل فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور یورپی ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ یوکرین کو کن دفاعی وسائل کی ضرورت ہے، اور یہ ضروری ہے کہ اینٹی بیلسٹک میزائل گوداموں میں پڑے رہنے کے بجائے شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے استعمال کیے جائیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انتم نے 53 کلوگرام فری اسٹائل ریسلنگ میں سلور جیتا۔ پرنوی ارس، ادیتی اشوک اور…
پپو یادو نے مرکزکی حکومت اور بہار حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا…
ہارٹ اٹیک کی علامات اچانک ظاہر ہوسکتی ہیں۔ ان میں سینے میں درد یا دباؤ،…
شبھمن گل نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ون ڈے میچ میں 110 رنز کی…
انتہائی سنگین صورتحال کے باوجود کیپٹن اسمت مچھّار نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے طیارے…
نروپم نے کہا کہ اگر ملک کو محفوظ رکھنا ہے اور تمام شہریوں کی سلامتی…