بین الاقوامی

Universities Where Ideas Become Opportunity: امریکی جامعات میں تصورات کا حقیقت میں بدلنا

تحریر:ڈاکٹر سیّد سلیمان اختر

ہر سال، امریکی محکمہ خارجہ کا انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام (آئی وی ایل پی )ابھرتے ہوئے رہنماؤں کو امریکہ کی جدت اور تحقیق کی دنیا سے روشناس کرواتا ہے، خصوصاً وہ یونیورسٹیاں جوتحقیق کو اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے قیام،پیٹنٹس، اور روزگار میں بدلتی ہیں۔کیمپس کے عملی دوروں کے دوران، شرکاء مشاہدہ کرتے ہیں کہ علمی خیالات کیسے تیزی سے  بازار میں متعارف ہوتے ہیں ، مقامی معیشت کو مضبوط کرتے ہیں اور امریکی اعلیٰ قیادت کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔

خزاں 2025 میں،جیمس میکا نے امریکہ کی مختلف  یونیورسٹیوں کے کیمپس کا دورہ کیا ۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ طلبہ ڈگری مکمل ہونے سے پہلے پیٹنٹ فائل کررہے ہیں ، اساتذہ تدریس کے ساتھ ساتھ اسٹارٹ اپ کمپنیاں شروع کررہے ہیں اور کبھی فٹبال اسٹیڈیم رہ چکی جگہ کو 16 لاکھ مربع فٹ پر مشتمل اختراعی مرکز میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ یہ تمام تجربات واضح کرتے ہیں کہ امریکی یونیورسٹیاں دانستہ طور پر اس طرح بنائی گئی ہیں کہ وہ علم کو اقتصادی مواقع میں تبدیل کرسکیں۔

میکا کے مطابق’’ امریکہ میں تعلیم اور اقتصادی ترقی کو الگ الگ نہیں دیکھا جاتا، بلکہ انہیں ایک ہی سکے کے دو پہلو سمجھا جاتا ہے۔ اصل میں امریکہ دنیا کو یہی طرز ِ فکر برآمد کرتا ہے۔‘‘

فکر سے اثر تک

’’ یونیورسٹی پارٹنر شپس‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے انٹرنیشنل وزیٹر لیڈ رشپ پروگرام کے لیے  چنے جانے کے بعد آندھر یونیورسٹی کے ڈین میکا نے تین ہفتے تک ان سرکاری یونیورسٹیوں کا دورہ کیا جو صنعت کے ساتھ مضبوط اشتراک اور  ٹیکنالوجی کو تجارتی شکل دینے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ میکا کے مطابق’’ دورے کے دوران مجھے سب سے زیادہ متاثر کن بات یہ لگی کہ خیال سے تحقیق، تحقیق سے نمونے کی تیاری اور پھر تجارتی مرحلے تک کا سفر کس قدر آسانی  کے ساتھ طے ہوتا ہے۔ ‘‘

اس سلسلے میں وہ  سان ڈیاگو اسٹیٹ یونیورسٹی کے  ٹیکنالوجی ٹرانسفر آفس کی مثال دیتے ہیں جہاں اساتذہ اور طلبہ کو ایک واضح اور منظم راستے کے ذریعے راہنمائی فراہم کی جاتی ہے ۔۔ اس مقصد کے لیے ایک بانیوں کا ہدایت نامہ استعمال کیا جاتا ہے جو پیٹنٹ حاصل کرنے میں مدد دینے ، لائسنس لینے کے مواقع اور انکیوبیٹر تک رسائی جیسی چیزوں کو ایک مربوط نظام کے تحت یکجا کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’ ایس ڈی ایس یو میں عمل کی وضاحت اور جدّت پر مبنی ثقافت اس بات کویقینی بناتی ہے کہ تحقیق معاشرے کے لیے ایک عملی اور قابلِ قدر شراکت بن سکے۔ ‘‘اپنے دورے کے دوران میکا نے دیگر یونیورسٹیوں میں بھی اسی نوعیت کے ڈھانچے کا مشاہدہ کیا جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی نظام میں تجارتی عمل کوفروغ دینے میں انفرادی کوشش کی بجائے ادارہ جاتی ماڈل زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس ماڈل کے نتائج واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں: امریکی یونیورسٹیاں ہر سال ہزاروں پیٹنٹ کا اندراج کرواتی ہیں اور ایسی اسٹارٹ اپ کمپنیاں شروع کرتی ہیں جو لائسنس حاصل کرنے کے مرحلے سے آگے جاکر روزگار پیداکرنے اور سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔

علاقائی ترقی کو فروغ دینے والے کیمپس

میکا نے سان ڈیاگو میں واقع یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ان تحقیقی تجربہ گاہوں کا دورہ کیا جو جو یونیورسٹی اور صنعتی شراکت داروں کے باہمی تعاون سے چلائی جارہی ہیں۔بایوٹیکنالوجی کمپنیوں اور انجینئرنگ اداروں کے ساتھ اشتراکات برا ہ راست انٹرن شپ کے مواقع، مشترکہ طور پر تیار کردہ نصاب، اور مشترکہ تحقیقی سہولیات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔میکا مزید کہتے ہیں ’’ یہ تعاون روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں ، علاقائی معیشتوں کو مضبوط بناتے ہیں اور یونیورسٹی کی سماجی افادیت کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔ ‘‘

اس کی ایک نمایاں مثال ’ایس ڈی ایسیو مشن ویلی انوویشن ڈسٹرکٹ‘ ہے۔ اسے ایک کثیر المقاصد مرکز کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں تدریسی کمروں، اسٹارٹ اپس، کارپوریٹ دفاتر، رہائشی سہولیات، پارکس اور 35 ہزار نشستوں پر مشتمل اسٹیڈیم کو یکجا کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ ضلع ہزاروں نئے روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، جو اس بات کی واضح مثال ہے کہ یونیورسٹی کی قیادت میں ہونے والی ترقی کس طرح پورے علاقائی معاشی نظام کو نئی شکل دے سکتی ہے۔

پروفیسر میکا اس بات سے بے حد متاثر ہوئے کہ امریکی نصاب میں تحقیق اور باہمی تعاون کس قدر گہرائی سے شامل ہیں۔ مختلف یونیورسٹیوں میں تدریسی نظام اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ حقیقی دنیا میں مسائل کے حل کی عکاسی کرتا ہے، جہاں طلبہ  جدّت کو محض غیر نصابی سرگرمی کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ براہ راست عملی تحقیق کے ذریعے اس سے سیکھتے بھی ہیں ۔ وہ وضاحت کرتے ہیں ’’ طلبہ کو صرف نظریات ہی  پڑھائے نہیں جاتے بلکہ انہیں حقیقی سماجی مسائل کے حل کا پابند بھی بنایا جاتا ہے۔ ‘‘

امریکی ماڈل کو ہندوستان میں متعارف کرانا

میکا جب ہندوستان واپس آئے تو انہوں نے آندھر یونیورسٹی میں  توجہ جدّت اور بین الاقوامی روابط کو مضبوط بنانے کی خاطر مذکورہ امریکی طرزعمل کے چنندہ پہلوؤں کا یہاں نفاذ کرنے پر مرکوز کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے مکمل ماڈل کی نقل کرنے کی بجائے زور ایسا ڈھانچہ تشکیل دینے پر دیا جو تحقیق ، ٹیکنالوجی اور طلبہ کے مواقع کو مربوط کرسکے۔

ابھرتے ہوئے منصوبوں میں ایسے چھوٹے اختراعی مراکز شامل ہیں جہاں طلبہ مقامی مسائل کے حل کی خاطر ٹیکنالوجی کا استعمالکرسکیں۔منصوبے کا حصہ ایک ایسی خصوی تجربہ گاہ بھی ہے جو ڈیجیٹل ٹولس ، عملی مصنوعی ذہانت اور معاون ٹیکنالوجیوں پر کام کرے گی۔  میکا چاہتے ہیں کہ طلبہ کے لیے منظم عالمی تجربے کے راستے بھی بنائے جائیں جن میں ورک شاپ، قلیل مدتی تبادلے اور راہنمائی کا نظم ہو تاکہ طلبہ عالمی تحقیق اور تعلیمی تعاون کے لیے بہتر طور پر تیار ہوں۔

میکا بتاتے ہیں ’’ امریکہ اور ہندوستان کے تعلیمی تعاون میں تحقیق، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم کے شعبوں میں  دیر پا شراکت داری کے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ آندھر یونیورسٹی امریکہ کی تحقیقی مہارت کو ہندوستان کے ترقیاتی منظرنامے سے مربوط کرسکتی ہے۔ ‘‘

شاید سب سے دیرپا بصیرت کسی ایک لیبیا جگہ کا دورہ کرنے سے حاصل نہیں ہوئی  بلکہ اس بات کا مشاہدہ کرنے سے ملی کہ امریکی یونیورسٹیاں قیادت کو کس انداز میں متعین کرتی ہیں۔

میکا کہتے ہیں’’اعلیٰ تعلیم میں قیادت کا تعین تعاون، اطلاق، اور اثر سے ہوتا ہے۔ جب علم کھلے طور پر بانٹا جائے اور تجسس کو حقیقی وسائل کی حمایتحاصل ہو تو یونیورسٹیاں طلبہ کو موجد بنانے کا کام کرتی ہیں ۔ اس سے خوشحالی پیدا ہوتی ہے جو تعلیمی کیمپسوں ، معیشتوں اور عالمی شراکت داریوں میں پھیل جاتی ہے۔ ‘‘

 یہ طریقہ کار کسی ایک پیٹنٹ یا اسٹارٹ اپ سے زیادہ امریکہ کی سب سے دیرپا برآمدات میں سے ایک ہوسکتا ہے۔

بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی

Bharat Express

Recent Posts

LPU Phagwara Student Protest: پنجاب کی ایل پی یو میں پھر ہنگامہ، گیٹ بند کیے جانے پر بھڑکے طلبہ، کیمپس میں بھاری پولیس فورس تعینات

لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) فگواڑہ میں اتوار کی شام ایک بار پھر ہنگامے کی صورتحال…

7 minutes ago

PM Modi Mann Ki Baat: آملے نے بدلی قسمت! ’من کی بات‘ میں پی ایم مودی نے کہا، پرتاپ گڑھ ’وکل فار لوکل‘ کی مثال

وزیر اعظم مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 138ویں…

34 minutes ago

Bihar News: سیلاب متاثرین کے درمیان پہنچے پپو یادو، انتظامیہ پر برہم، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر دیا سخت بیان

پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے…

42 minutes ago