امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ٹیرف پر یو ٹرن لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر منصفانہ تجارتی توازن پر کسی ملک کو چھوٹ نہیں دی گئی۔ جمعہ کو ٹیرف میں چھوٹ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ کا یہ بیان امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور دیگر الیکٹرانکس کو باہمی محصولات سے مستثنیٰ قرار دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔
چین کو کوئی چھوٹ نہیں دی گئی
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ہمارے خلاف غیر منصفانہ تجارتی توازن اور غیر مالیاتی ٹیرف رکاوٹوں سے کسی بھی ملک کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا ہے۔ خاص طور پر چین نہیں، جس نے ہمارے ساتھ اب تک بدترین سلوک کیا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ جمعہ کو ٹیرف میں چھوٹ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اسٹیفن ملر نے سوشل میڈیا پر کہی یہ بات
وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر اسٹیفن ملر نے ٹویٹر پر لکھا کہ ،یہ سامان اب بھی چین پر پہلے اعلان کردہ 20 فیصد ٹیرف کے دائرے میں ہیں۔’ وہ صدر ٹرمپ کے حکم کی بات کررہے تھے ، جس میں کینیڈا، میکسیکو اور چین پر “غیر قانونی ادویات کے مسئلے” کی وجہ سے محصولات عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔
ٹرمپ کو پیچھے ہٹتے آئےنظر
ٹرمپ نے ٹتھ سوشل پر لکھا۔ جو دوسرے ممالک نے ہمارے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں اور غیر ضروری ٹیرف پر رکاوٹ پیدا کی ہے، ان کے لئے اب کسی کو بھی ‘چھوٹ’ نہیں ملے گی، – خاص طور پر چین نہیں، جس نے ہمارے ساتھ سب سے خراب سلوک کیا”
78 سالہ ٹرمپ نے مزید کہا کہ جمعہ کو ‘کسی ٹیرف میں چھوٹ کا اعلان نہیں کیا گیا’۔ انہوں نے کہا کہ یہ مصنوعات پہلے ہی ’20فیصد فینٹینیل ٹیرف’ کے تحت آتی ہیں اور اب انہیں صرف ایک مختلف ٹیرف کیٹیگری (بکیٹ) میں ڈالا جا رہا ہے۔
‘ہم چین پر انحصار نہیں کر سکتے’
انہوں نے کہا، “ہم آئندہ قومی سلامتی کے ٹیرف کی تحقیقات میں سیمی کنڈکٹرز اور پوری الیکٹرانکس سپلائی چین پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔” ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ “تحقیقات سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ ہمیں اپنے ملک امریکہ میں ہی اشیاء تیار کرنی ہیں، ہم کسی دوسرے ملک، خاص طور پر چین جیسے دشمن تجارتی ممالک پر بھروسہ نہیں کر سکتے، جو امریکہ اور ہمارے لوگوں کی توہین کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔”
ٹرمپ نے مزید کہا، “ہم انہیں تجارت پر ہمارے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے جیسا کہ وہ کئی سالوں سے کر رہے ہیں۔ وہ دن ختم ہو گئے!” انہوں نے کہا، “امریکہ ایک نیا سنہری دور شروع ہونے والا ہے، جس میں ٹیکسوں میں کٹوتی اور ضوابط میں نرمی شامل ہے، جن میں سے اکثر کو حال ہی میں منظور کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ زیادہ سے زیادہ اور بہتر تنخواہ والی ملازمتیں، ہمارے ملک میں سامان تیار کرنا اور چین جیسے ممالک کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرنا ،جو انہوں نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔” آخر میں انہوں نے کہا، “نتیجہ یہ ہو گا کہ ہمارا ملک پہلے سے بڑا، بہتر اور مضبوط ہو جائے گا۔ ہم امریکہ کو پھر سے عظیم بنائیں گے”
بھارت ایکسپریس اردو
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…