واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دو طرفہ شہری جوہری معاہدہ ریاض کے باضابطہ طور پر ابراہیمی معاہدوں (Abraham Accords) میں شامل ہونے سے مشروط ہوگا۔ ٹرمپ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں واضح کیا کہ مجوزہ تعاون کا فریم ورک صرف غیر فوجی جوہری استعمال تک محدود رہے گا اور اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو اپنے ملک میں یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے لکھا ’’شہری جوہری معاہدے کی منظوری دی جائے گی، لیکن یہ مکمل طور پر سعودی عرب کے انتہائی قابلِ احترام اور کامیاب ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے سے مشروط ہے۔‘‘
جوہری معاہدے کے ایک روز بعد آیا بیان
امریکی صدر کا یہ بیان امریکی اور سعودی حکام کی جانب سے اہم توانائی معاہدے کا اعلان کیے جانے کے 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ اس دو طرفہ معاہدے پر امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے دستخط کیا ہے، جسے قانون ساز جائزے کے لیے امریکی کانگریس میں پیش کر دیا گیا ہے۔ دونوں معاملات کو آپس میں جوڑ کر ٹرمپ نے شہری توانائی شراکت داری کو مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری کے ایک دیرینہ اور حساس مسئلے سے منسلک کر دیا ہے۔ ریاض بارہا واضح کر چکا ہے کہ اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب واضح اور قابل اعتماد روڈ میپ سے مشروط ہے۔
سعودی عرب کا فلسطینی ریاست کے معاملے پر موقف برقرار
واشنگٹن کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں کا دائرہ وسیع کرنے کی مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود سعودی حکام فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہیں۔ واشنگٹن اور ریاض کے درمیان شہری جوہری تعاون کے دو طرفہ فریم ورک پر کئی امریکی حکومتوں کے ادوار میں مذاکرات ہوتے رہے ہیں، تاہم جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق شرائط پر سابقہ کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی تھیں۔ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں زیر غور آنے والے مسودوں کے برعکس موجودہ مسودہ سعودی عرب کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے اضافی پروٹوکول پر دستخط کرنے کا پابند نہیں بناتا۔ اس پروٹوکول کے تحت معائنہ کاروں کو غیر اعلانیہ مقامات تک مختصر نوٹس پر رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
سعودی میں امریکی ٹیکنالوجی سے جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ امریکی اٹامک انرجی ایکٹ کی مکمل پابندی کرتا ہے اور اس میں جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق مضبوط حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔ سعودی حکام نے بھی کہا ہے کہ یہ شراکت داری بین الاقوامی حفاظتی معیارات برقرار رکھتے ہوئے ملک میں توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کے عمل کو تیز کرے گی۔ یہ دو طرفہ معاہدہ ’’123 ایگریمنٹ‘‘ کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب میں اے پی 1000 جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر کو ممکن بنانا ہے۔ یہ معاہدہ فی الحال امریکی کانگریس میں 90 سیشن دنوں پر مشتمل جائزے کے مرحلے میں ہے اور اگر قانون ساز کارروائی کے ذریعے اسے روکا نہ گیا تو مقررہ مدت کے بعد خود بخود نافذ ہو جائے گا۔ تاہم کئی ڈیموکریٹ قانون سازوں نے اس معاہدے پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاض کو جدید جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے سے خطے میں جوہری پھیلاؤ اور مغربی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ابراہیمی معاہدے 2020 میں امریکا کی ثالثی میں شروع کیے گئے سفارتی معاہدوں کا ایک سلسلہ ہیں، جن کے ذریعے اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان باضابطہ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات قائم ہوئے۔ ان ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان شامل ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امت شاہ نے ’’ویژن ڈاکیومنٹ 2026-2029‘‘ کو منشیات کے خطرے کے خلاف جنگ میں شامل…
25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…
سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم…
پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…
وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…