بین الاقوامی

Donald Trump Chagos Islands: چاغوس جزائر پر ٹرمپ کا سخت مؤقف، برطانیہ کے ایک فیصلے کو ’بے وقوفی‘ قرار دیا، جانئے کیا ہے پورا معاملہ؟

گرین لینڈ پر قبضے کے اپنے متنازع مؤقف کے بعد امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اب بحرِ ہند میں واقع چاغوس جزائر کا معاملہ بھی چھیڑ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے برطانیہ کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کے تحت چاغوس جزائر کی خودمختاری ماریشس کے حوالے کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہی وہ کمزور فیصلے ہیں جو امریکہ کو گرین لینڈ جیسے اسٹریٹجک خطے پر کنٹرول حاصل کرنے کی ضرورت پر مجبور کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک طویل پوسٹ میں کہا کہ چاغوس جزائر کی خودمختاری ماریشس کو سونپنے کا برطانوی منصوبہ ’’بہت بڑی بے وقوفی کا کام‘‘ ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ یہ حیران کن ہے کہ ہمارا ’’شاندار‘‘ نیٹو اتحادی، برطانیہ، ڈیگو گارشیا جیسے اہم جزیرے کو ماریشس کو دینے جا رہا ہے، جہاں ایک نہایت اہم امریکی فوجی اڈہ قائم ہے اور وہ بھی بغیر کسی معقول وجہ کے۔

صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کو عالمی طاقتوں کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اور روس جیسے ممالک ایسی کمزوریوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین اور روس نے اس اقدام کو نوٹ کیا ہوگا، کیونکہ یہ طاقتیں صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی قیادت میں امریکہ کی عالمی ساکھ صرف ایک سال میں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ برطانیہ کی جانب سے اتنی اہم اسٹریٹجک زمین چھوڑ دینا قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے ایک سنگین غلطی ہے۔ ان کے مطابق یہی وہ اسباب ہیں جن کی بنیاد پر امریکہ کے لیے گرین لینڈ جیسے خطے پر کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ انہوں نے ڈنمارک اور یورپی اتحادیوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ’’درست فیصلہ‘‘ کریں اور عالمی سلامتی کے تقاضوں کو نظر انداز نہ کریں۔

چاغوس جزائر سے متعلق یہ تنازع دراصل مئی 2025 میں طے پانے والے ایک معاہدے سے جڑا ہے، جس کے تحت برطانیہ نے چاغوس جزائر پر اپنی خودمختاری ماریشس کو منتقل کرنے پر اتفاق کیا۔ تاہم سب سے بڑے جزیرے ڈیگو گارشیا کو 99 سال کے لیے لیز پر برقرار رکھا گیا ہے تاکہ وہاں مشترکہ امریکی۔برطانوی فوجی اڈہ بدستور کام کرتا رہے۔ یہ معاہدہ سابق کنزرویٹو حکومت کے دور میں شروع ہونے والے طویل مذاکرات کا نتیجہ تھا۔ اس سے قبل 2019 میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ برطانیہ کو چاغوس جزائر پر اپنا کنٹرول ختم کر دینا چاہیے، کیونکہ یہ قبضہ نوآبادیاتی قوانین کے منافی ہے۔

اس معاہدے کے تحت برطانیہ نے جزائر سے بے دخل کیے گئے چاغوسین باشندوں کے لیے 40 ملین پاؤنڈ کا فنڈ قائم کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ 99 سالہ معاہدے کے دوران ماریشس کو سالانہ کم از کم 120 ملین پاؤنڈ ادا کیے جائیں گے، جس کی مجموعی لاگت نقد شرائط میں کم از کم 13 ارب پاؤنڈ تک پہنچ سکتی ہے۔ کنزرویٹو پارٹی نے اس معاہدے کو برطانیہ کے مفادات کے خلاف قرار دیا تھا۔ تاہم برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس وقت اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے سوا کوئی متبادل موجود نہیں تھا، کیونکہ یہ معاہدہ ملک کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے اور امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ نے 1968 میں چاغوس جزائر کو تین ملین پاؤنڈ میں خریدا تھا اور بعد ازاں امریکی و برطانوی افواج کے لیے فوجی اڈہ قائم کرنے کی خاطر تقریباً دو ہزار مقامی باشندوں کو زبردستی بے دخل کر دیا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Plea on Delhi Pollution: دہلی میں فضائی آلودگی پر سپریم کورٹ کا طنزیہ تبصرہ، کہا-’’امید ہے آپ موسم کا لطف اٹھا رہے ہوں گے‘‘

عدالت عالیہ نے آلودگی کے لیے صرف پرالی جلانے کو ذمہ دار ٹھہرانے پر سوال…

50 minutes ago

Amit Shah launches Mission Uttarakhand: امت شاہ نے ’مشن اتراکھنڈ‘ کا کیا آغاز، مسلسل تیسری بار بی جے پی حکومت بنانے کے لیے 65 سے زیادہ سیٹوں کا ہدف

اتراکھنڈ یومِ تاسیس کی تقریب میں کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے…

1 hour ago

PM Modi meets Suryakumar Yadav: وزیراعظم مودی سے سابق بھارتی ٹی-20 کپتان سوریہ کمار یادو اور ان کے اہل خانہ کی ملاقات

سوریہ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔…

1 hour ago

Supreme Court refuses suspend Tarun Tejpal 10 Year Sentence: ترون تیج پال کو سپریم کورٹ سے ایک اور جھٹکا، 10 سال کی سزا پر روک لگانے سے انکار

وہیں گوا حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے ترون تیج پال کی…

1 hour ago