بین الاقوامی

Trump questions US troop pullout from Afghanistan: ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کو ’’ملک کی تاریخ کا سب سے شرمناک لمحہ‘‘ قرار دے دیا، فیصلے پر پھر اٹھائے سوال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کو ایک بار پھر ملک کی تاریخ کا ’’سب سے شرمناک لمحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس فیصلے پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔ ٹرمپ نے خاص طور پر امریکی فوجی کمانڈرز اور سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی کو آڑے ہاتھوں لیا۔

کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے اربوں ڈالر کا عسکری ساز و سامان افغانستان میں چھوڑ دیا، جو اب طالبان حکومت کی عوامی پریڈز میں استعمال ہو رہا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جنرل مارک ملی نے ساز و سامان وہیں چھوڑنے کے حق میں مشورہ دیا تھا، جسے ٹرمپ نے شدید ناپسندیدگی سے یاد کیا۔

امریکہ کی ہر چیز واپس لائی جانی چاہیے تھی: ٹرمپ

ٹرمپ نے کہا کہ ’’انھیں ہر چیز ساتھ لینی چاہیے تھی — ہر پیچ، ہر کیل، ہر پرزہ۔ ملی نے کہا کہ چھوڑ دینا بہتر ہے کیوں کہ  ایک ڈیڑھ سو ملین ڈالر کا جہاز کسی اور ملک لے جانا مہنگا پڑے گا۔ اسی وقت مجھے سمجھ آ گیا کہ یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ یہ سب کچھ عزت کے بغیر چھوڑ دیا گیا۔ میرے نزدیک یہ امریکہ کی تاریخ کا سب سے شرمناک لمحہ تھا۔‘‘

ٹرمپ نے بگرام ایئربیس کے نقصان کو بھی ایک اسٹریٹجک ناکامی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایئربیس چین کے ایٹمی ہتھیاروں کے مراکز سے صرف ایک گھنٹے کی فضائی مسافت پر واقع ہے اور اب مبینہ طور پر چین کے کنٹرول میں ہے۔  حالاں کہ افغانستان کی طالبان حکومت اس دعوے کو مسترد کر چکی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’میں بگرام ایئربیس کبھی نہ چھوڑتا۔ یہ دنیا کی سب سے مضبوط اور طاقتور رن ویز میں سے ایک ہے، جہاں ہر قسم کا جہاز لینڈ کر سکتا ہے۔ افسوس کہ ہم نے یہ جگہ بھی گنوا دی۔‘‘

امریکی افواج کا دوبارہ افغان میں داخل ہونا ہوگا خطرناک: ماہرین

دریں اثنا سیکیورٹی ماہرین نے افغانستان میں دوبارہ امریکی فوجی موجودگی کے کسی امکان پر امریکہ کو سخت خبردار کیا ہے۔ معروف عسکری تجزیہ کار یوسف امین زازئی نے ٹولو نیوز کو بتایا کہ افغان عوام کبھی بھی غیر ملکی افواج کی موجودگی کو قبول نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگرچہ امریکہ عالمی طاقت ہے اور بعض اسلامی و عرب ممالک پر اثر رکھتا ہے، لیکن افغانستان کی صورت حال بالکل مختلف ہے۔ یہاں کے عوام اپنی سرزمین پر کسی غیر ملکی فوج کو برداشت نہیں کرتے۔‘‘ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اب تک افغانستان سے متعلق کوئی باضابطہ پالیسی یا منصوبہ پیش نہیں کیا ہے، حالاں کہ  ان کے دوسرے صدارتی دور کو سات ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا یہ تبصرہ ایک اہم اشارہ ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

PM Modi Boosts Morale of Para-Athletes: وزیراعظم مودی نے پیرا ایتھلیٹس کا حوصلہ بڑھایا، کہا-عزم ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…

6 hours ago

PM Modi to visit Vaishali: بہار میں این ڈی اے حکومت کا ایک سال مکمل، 21 نومبر کو وزیر اعظم مودی کا ویشالی دورہ ممکن، بڑے جشن کی تیاریاں

وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…

6 hours ago

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

7 hours ago