’یہ ہمیں جنگ میں تحفظ نہیں دے سکتے‘ فلسطینی صحافی نے جیکٹ اور ہیلمٹ اتار دیے
Hamas Israel War: غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی وحشیانہ بمباری میں ساتھی صحافی کے خاندان کے قتل عام کے بعد ایک مقامی صحافی نے بہ طور احتجاج اپنی جیکٹ اور ہیلمٹ اتار کر پھینک دیے۔
انہوں نےکہا کہ “یہ ہیلمٹ اور جیکٹ مجھے جنگ میں تحفظ نہیں دیتے۔ ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم یہاں براہ راست بمباری کی زد میں ہیں۔ ہمارے کئی ساتھی بمباری میں مارے گئے۔ ہم میں سے ہرایک اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے”۔فلسطینی صحافی سلمان البشیر کا یہ ردعمل خان یونس میں اسرائیلی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں فلسطین ٹی وی کے نامہ نگار محمد ابو حطب اور ان کے خاندان کے 11 افراد کی ہلاکت کے فوری بعد سامنے آیا ہے۔
فلسطینی وزارت اطلاعات نے صحافی ابو حطب اور ان کے خاندان کی شہادت پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔وزارت اطلاعات نے تمام بین الاقوامی صحافتی اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کے خلاف جرائم کو روکنے کے لیے فوری طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
غزہ میں اسرائیلی فوج اور مسلح فلسطینی دھڑوں کے درمیان کشیدگی کے آغاز کے بعد سے جنگ اپنے 28 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔اسرائیلی فوج مشرق وسطیٰ میں تنازع کے پھیلاؤ کے بین الاقوامی خدشات کے باوجود غزہ پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔
7 اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے مرنے والوں کی تعداد 9,061 تک پہنچ گئی ہے جن میں 3,760 بچے اور 2,326 خواتین شامل ہیں اور 32,000 زخمی ہیں۔
بشکریہ :.alarabiya.
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…