بین الاقوامی

Israel in Gaza Peace Deal: کیا مسلم دنیا میں پڑگئی ہےدراڑ ؟ دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک نے اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت مانگی، ڈونالڈ ٹرمپ نے کھلے عام کی تعریف

غزہ میں جاری جنگ نے دنیا کو دو واضح دھڑوں میں تقسیم کر رکھا تھا، مگر اب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک غیر متوقع موڑ دیکھنے کو ملا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک انڈونیشیا نے اسرائیل کے لیے سلامتی کی ضمانت مانگ لی ہے — جو کہ مسلم دنیا کے روایتی مؤقف سے ہٹ کر ایک انقلابی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبیانتو کے اس بیان کی سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی کھلے عام تعریف کی ہے، جس سے یہ اشارہ ملا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی سے آگے بڑھ کر ایک بڑا امن معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کی ستائش
ڈونالڈ ٹرمپ نے صدر پربووو کے اس بیان کو “امن کا پیغام” قرار دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل کو سلامتی کی بین الاقوامی ضمانت دی جائے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا: ہم چاہتے ہیں کہ غزہ میں جنگ ختم ہو۔ اور یہ ممکن ہے کہ جلد ہی ایسا ہو جائے۔
یہ بیان ٹرمپ نے نیویارک میں عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد دیا۔ اس اہم ملاقات میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے نمائندے بھی شامل تھے۔
اہم پیش رفت کا امکان
ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ یہ ملاقات انتہائی مفید رہی اور فریقین کسی ممکنہ امن معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حالانکہ اجلاس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، مگر ان کے قریبی ذرائع کے مطابق ماحول مثبت تھا اور جلد اہم اعلانات ہو سکتے ہیں — جن میں غزہ سے حماس کا انخلاء اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کا خاتمہ شامل ہو سکتا ہے۔
ابھی بھی رکاوٹیں باقی
قابل ذکر بات یہ ہے کہ امن کی راہ مکمل ہموار نہیں ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ غزہ میں حماس کے بعد اقتدار کس کے ہاتھ میں ہوگا؟ — اس پر تاحال امریکہ، اسرائیل اور مسلم ممالک کے درمیان اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ یہی نکتہ مذاکرات میں سب سے بڑا چیلنج بن کر کھڑا ہے۔
نیتن یاہو کی آمد، امیدیں برقرار
اس تمام پیش رفت کے بیچ، اگلے ہفتے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو امریکہ کا دورہ کریں گے اور امکان ہے کہ وہ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران عرب ممالک کے ساتھ حالیہ اجلاس پر تبادلہ خیال کریں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انڈونیشیا جیسے بڑے اسلامی ملک کی جانب سے اسرائیل کی سلامتی پر کھل کر بات کی جا رہی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم دنیا میں بھی غزہ کے مسئلے پر روایتی مؤقف میں تبدیلی آ رہی ہے۔ صرف جنگ بندی نہیں، بلکہ دو طرفہ سلامتی اور سیاسی استحکام اب امن کی نئی بنیاد بن سکتے ہیں۔
جنگ کے خاتمے کی نئی امید
انڈونیشیا کے بیان اور ٹرمپ کی کوششوں نے ایک بار پھر غزہ میں جنگ کے خاتمے کی امید کو تازہ کر دیا ہے۔ اگر تمام فریقین کسی مشترکہ حل پر متفق ہو گئے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے — جس میں مسلم ممالک اور اسرائیل ایک دوسرے کے وجود اور سلامتی کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Azam Khan arrested by ED from Rampur Jail: جیل سے رہا ہوتے ہی حراست میں اعظم خان، ای ڈی نے کسا شکنجہ

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈراعظم خان کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ٹیم نے رام…

41 minutes ago

جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی زندگی کا آغاز، صحافی ندھی رازدان سے کرلی شادی

 جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک بڑی خوشخبری سوشل…

54 minutes ago

Amit Shah Wishes Chirag Paswan: یوم پیدائش پر وزیر داخلہ امت شاہ کی چراغ پاسوان کو مبارکباد، غذائی تحفظ کے شعبے میں تعاوم کو سراہا

وزیر داخلہ امت شاہ نے کسانوں کے مفاد اور خود کفیل ہندوستان کی تعمیر میں…

2 hours ago

PM Modi Wishes Chirag Paswan: یوم پیدائش پر پی ایم مودی اورامت شاہ کی چراغ پاسوان کو مبارکباد، فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں خدمات کو سراہا

وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں کے مفاد اور خود کفیل ہندوستان کی تعمیر میں…

3 hours ago