بین الاقوامی

Talks between Iran-US: ایران اور امریکہ کے درمیان اگلے ہفتے پاکستان میں مذاکرات کا امکان، امریکی میڈیا کا بڑا دعویٰ

نئی دہلی: امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کو لے کر بات چیت جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آج ایران کی جانب سے امریکی تجویز پر جواب موصول ہوسکتا ہے۔ اسی دوران امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان آئندہ ہفتے کے آغاز میں پاکستان میں مذاکرات ہوسکتے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اس معاملے سے وابستہ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، دونوں فریق ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) تیار کرنے کے لیے ثالثی کرنے والے فریقوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد جنگ کے خاتمے کی سمت ایک ماہ تک جاری رہنے والی بات چیت کے لیے خاکہ تیار کرنا ہے۔

پاکستان کی ثالثی میں پہلے بھی دو دور کی بات چیت

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو مرحلوں میں مذاکرات ہوچکے ہیں، تاہم دونوں ہی دور ناکام رہے تھے۔ پہلے دور کی بات چیت کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے وفد کے ساتھ اسلام آباد پہنچے تھے، لیکن اس مذاکراتی عمل کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔ بعد ازاں دوسرے مرحلے کی بات چیت ہوئی، مگر اس میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے قائم نہیں ہوسکا۔ البتہ دونوں ملکوں کے درمیان دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی ضرور نافذ کی گئی تھی۔ وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا، ’’مجھے آج رات ایک خط موصول ہونے والا ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تہران جان بوجھ کر اس عمل کو سست کر رہا ہے، تو انہوں نے جواب دیا، ’’ہمیں بہت جلد پتہ چل جائے گا۔‘‘

’’پروجیکٹ فریڈم پلس‘‘ کی دھمکی

امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ اگر مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو واشنگٹن اپنا موقف مزید سخت کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر سب کچھ ٹھیک نہیں ہوا تو ہم دوسرا راستہ اختیار کریں گے۔ اگر حالات بہتر نہ رہے تو ہم دوبارہ ‘پروجیکٹ فریڈم’ کی طرف جا سکتے ہیں، لیکن یہ ‘پروجیکٹ فریڈم پلس’ ہوگا، یعنی اس میں مزید اقدامات بھی شامل ہوں گے۔‘‘ اس موقع پر ٹرمپ نے روس یوکرین جنگ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے سنگین صورتحال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ محدود جنگ بندی کو مزید آگے بڑھائے جانے کا خیرمقدم کریں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا جنگ بندی تین دن سے زیادہ برقرار رہ سکتی ہے، تو انہوں نے کہا، ’’ممکن ہے، یہ اچھی بات ہوگی۔ میں چاہوں گا کہ لڑائی رک جائے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

23 minutes ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

10 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

10 hours ago

Lucknow Floods: لکھنؤ میں سیلاب کا مستقل حل، فیض اللہ گنج سے نیمیش تک گرین کوریڈور کی طرز پر بنے گا پشتہ، سی ایم یوگی نے کیا بڑا اعلان

گومتی میں بڑھتی آبی سطح اور حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ یوگی…

11 hours ago