بین الاقوامی

Sheikh Hasina Bangladesh Return: ’دسمبر کا انتظار کیوں؟ کل ہی واپس آ جاؤں…‘ شیخ حسینہ کے بڑے اعلان کے بعد بنگلہ دیشی عدالت نے سنا دیا سخت فیصلہ

بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ 2024 میں اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد بھارت میں پناہ لینے والی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سال دسمبر تک ڈھاکہ واپس آ کر خودسپردگی کریں گی۔ ان کے اس بیان کے بعد بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (ICT) نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں قدم رکھتے ہی انہیں براہِ راست جیل بھیج دیا جائے گا۔ بھارت میں مقیم شیخ حسینہ نے وطن واپس آ کر عدالت کا سامنا کرنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم آئی سی ٹی کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بھارت سے حوالگی کے معاہدے (Extradition Treaty) کے تحت واپس لایا گیا تو انہیں عدالت میں خودسپردگی کا موقع نہیں ملے گا، بلکہ قانونی کارروائی کے تحت سیدھا جیل منتقل کیا جائے گا۔ ٹریبونل اس سے قبل انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں غیر حاضری میں سزائے موت بھی سنا چکا ہے۔

’دسمبر کا انتظار کیوں، کل ہی واپس آ جائیں‘

بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے چیف پراسیکیوٹر امین الاسلام نے شیخ حسینہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، ’’اگر وہ واپس آنا چاہتی ہیں تو دسمبر کا انتظار کیوں؟ وہ کل ہی واپس آ جائیں۔ وہ دسمبر میں آئیں یا جنوری میں، یہ ان کا فیصلہ ہے، لیکن قانون اپنا کام کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ کے خلاف کئی سنگین مقدمات زیر سماعت ہیں اور گزشتہ سال نومبر میں ٹریبونل نے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔

’اپنی مٹی میں مرنا چاہتی ہوں‘

شیخ حسینہ نے اپنی جان کو خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ڈھاکہ واپس گئیں تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے اور ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ اگر موت آنی ہی ہے تو وہ اپنی سرزمین پر آئے، جہاں ان کے والدین دفن ہیں۔ عوامی لیگ کی سربراہ اور تقریباً دو دہائیوں تک بنگلہ دیش کی قیادت کرنے والی شیخ حسینہ کے لیے وطن واپسی کا راستہ اب مزید دشوار دکھائی دے رہا ہے۔

2024 کے سیاسی بحران کے بعد بھارت آئی تھیں

واضح رہے کہ جون اور جولائی 2024 میں بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کے خلاف طلبہ کی تحریک نے شدت اختیار کر لی تھی، جو بعد میں حکومت مخالف عوامی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔ مظاہرین وزیراعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ تک پہنچ گئے، جس کے بعد 5 اگست 2024 کو شیخ حسینہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت پہنچ گئیں۔ وہ تب سے بھارت میں مقیم ہیں، تاہم تقریباً دو سال بعد انہوں نے وطن واپس لوٹنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Special Camp for SIR in Delhi’s Ranjit Nagar: دہلی کے رنجیت نگر میں ایس آئی آر کو لے کر خصوصی کیمپ، بی ایل او اور افسران کر رہے مسائل کا حل

مقامی لوگوں نے کہا کہ افسران اور ملازمین مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ جب بھی…

7 minutes ago

PM Modi and Swiss President to Meet Today: بھارت-سوئٹزرلینڈ تعلقات میں نئے باب کا آغاز، پی ایم مودی اور سوئس صدر کے درمیان آج ہوگی اہم ملاقات

اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…

1 hour ago

Jantar Mantar Protest: دہلی کے جنتر منتر پرخاتون سے مبینہ بدسلوکی کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…

2 hours ago

SIR Row Escalates: ایس آئی آر پر بڑھا تنازع، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ, سپریم کورٹ میں آج سماعت

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…

3 hours ago