سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ایران کے قطر میں العدید ایئر بیس پر حملے کی شدید مذمت کی۔ سعودی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، ایران کی یہ جارحیت بین الاقوامی قانون اور ہمسایگی کے اصولوں کی “واضح” خلاف ورزی ہے، اور اسے کسی بھی طور پر درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ شہزادہ محمد نے قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ سعودی عرب اپنی تمام صلاحیتوں کو قطر کی سیکیورٹی اور خودمختاری کی حمایت کے لیے استعمال کرے گا۔ اس حملے کے بعد سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک نے قطر کی حمایت میں آواز بلند کی، جبکہ قطر نے حملے کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جواب کا حق محفوظ رکھا۔
بتادیں کہ ایران نے پیر کی رات العدید ایئر بیس پر میزائل حملہ کیا، جو امریکی فضائیہ کا مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا اڈہ ہے۔ یہ حملہ ایران کے جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کے جواب میں تھا۔ قطری حکام نے بتایا کہ 19 میزائلوں میں سے صرف ایک بیس پر گرا، جبکہ باقی فضا میں ناکام بنا دیے گئے، اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے حملے سے قبل اطلاع دی تھی، اور یہ حملہ “غیر آبادی والے علاقے” کو نشانہ بنانے کے لیے تھا تاکہ کشیدگی کم رہے۔ قطر نے اس حملے کی مذمت کی اور اسے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ ایران نے قطر کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی یقین دہانی کرائی۔
سعودی ولی عہد اور قطری امیر کے درمیان یہ رابطہ علاقائی اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ سعودی عرب اور قطر کے تعلقات 2021 میں خلیجی بحران کے خاتمے کے بعد سے بہتر ہوئے ہیں، جب سعودی عرب نے قطر پر عائد سفارتی اور اقتصادی پابندیاں ختم کی تھیں۔ شہزادہ محمد نے قطر کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی، جبکہ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے بھی سفارتی کوششوں کے ذریعے تناؤ کم کرنے پر زور دیا۔ ایکس پر پوسٹس کے مطابق، اس رابطے کو علاقائی استحکام کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اس حملے کے بعد خلیجی ممالک اور عالمی برادری کی نظریں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مرکوز ہیں۔ سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کو خطرہ سمجھتا ہے، لیکن وہ سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے۔ قطر، جو ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات رکھتا ہے، نے بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا، جیسا کہ اس نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات میں کردار ادا کیا۔ تاہم، ایران کے تازہ بیانات اور زمینی حالات سے واضح ہے کہ علاقائی امن کے لیے مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ 3 اکتوبر کو بھوپال میں نئے فوجداری قوانین…
عامر خان اور کرینہ کپور کی آخری آن اسکرین جوڑی 2022 میں ریلیز ہونے والی…
لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) فگواڑہ میں اتوار کی شام ایک بار پھر ہنگامے کی صورتحال…
تھامسن کے انکشاف پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری بنوئے…
وزیر اعظم مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 138ویں…
پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے…