بین الاقوامی

Saudi Arabia plans hybrid format for marquee FII conference after attacks: سعودی عرب کا بڑا فیصلہ، ریاض میں سرمایہ کاری کانفرنس ہائبرڈ فارمیٹ میں منعقد کرنے کا منصوبہ

نئی دہلی : سعودی عرب نے ریاض میں ہونے والی اپنی اہم عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کو ہائبرڈ فارمیٹ میں منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے تحت شرکا کو بالمشافہ شرکت کے ساتھ آن لائن شامل ہونے کا اختیار بھی دیا جائے گا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ریاض کے ہوائی اڈے پر ہفتے کے آخر میں ہونے والے ہلاکت خیز حملوں کے بعد سعودی عرب کے سفر سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث کانفرنس کے انعقاد کے طریقۂ کار پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔اس معاملے سے واقف دو افراد نے بتایا کہ کچھ شرکا اب بھی ریاض پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان میں سے بعض ریاض سے باہر واقع ہوائی پٹیوں یا خلیجی خطے کے پڑوسی ممالک میں اترنے کے بعد سڑک کے راستے سعودی دارالحکومت پہنچ سکتے ہیں۔ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (ایف آئی آئی) کے نام سے مشہور یہ کانفرنس رواں ماہ کے اواخر میں منعقد ہونے والی ہے۔

سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ رواں ماہ کے آغاز میں کانفرنس کے منتظمین نے کہا تھا کہ مملکت پر میزائل حملوں کے باوجود پروگرام کے مطابق تقریب منعقد کی جائے گی۔ایف آئی آئی کے ایک میڈیا نمائندے نے رائٹرز کو تبصرے کے لیے ادارے کے چیف ایگزیکٹیو افسر اور چیئرمین کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کی طرف متوجہ کیا، جو ہفتے کے حملوں سے پہلے جاری کیا گیا تھا۔ایف آئی آئی انسٹی ٹیوٹ کی چیف ایگزیکٹیو افسر ماہا آل سعود اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ اٹیاس نے کہا تھا کہ ریاض میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کے دسویں ایڈیشن میں ہزاروں مندوبین کا استقبال کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور ان کی حفاظت اور فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے۔

’صحرا کا ڈیووس‘ کہلانے والی کانفرنس پر سکیورٹی خدشات کے اثرات

پیر کو ایک بین الاقوامی کانفرنس سے تیل کی بڑی کمپنیوں کے کئی سربراہان کے دستبردار ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایسے میں ہائبرڈ فارمیٹ اختیار کرنے سے مزید شرکا کو کانفرنس میں حصہ لینے کا موقع مل سکتا ہے۔یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ سعودی عرب خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے باوجود عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی اپنی کوششیں جاری رکھنا چاہتا ہے۔ یمن کے حوثیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع نے ریاض کو عالمی تقریبات کے مرکز کے طور پر قائم کرنے کی سعودی کوششوں کو چیلنج کیا ہے۔سعودی عرب اس کانفرنس کے ذریعے تیل پر معیشت کے انحصار کو کم کرنے، مختلف شعبوں کو ترقی دینے اور غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے منصوبوں کو عالمی سطح پر پیش کرتا رہا ہے۔اس تقریب میں دنیا بھر کے سربراہان، بڑی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں اور مالیاتی اداروں کی اہم شخصیات کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے عالمی اقتصادی فورم کے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے سالانہ اجلاس کے حوالے سے ’صحرا کا ڈیووس‘ بھی کہا جاتا ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان کی شرکت بھی متوقع

ایف آئی آئی کی ویب سائٹ پر 6 اکتوبر کو جاری کیے گئے پروگرام کے مسودے کے مطابق، گولڈمین سیکس کے چیف ایگزیکٹیو افسر اور چیئرمین ڈیوڈ سولومن، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے چیف ایگزیکٹیو افسر بل ونٹرز اور سٹی بینک کی چیف ایگزیکٹیو افسر جین فریزر کو کانفرنس میں مقررین کے طور پر شرکت کرنا تھی۔گولڈمین سیکس نے اپنے عہدیداروں کی شرکت کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کا یہ دسواں ایڈیشن ریاض کے مغربی حصے میں واقع کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں منعقد ہونے والا ہے۔ ہائبرڈ فارمیٹ اپنانے کا منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب عالمی سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں کی شرکت یقینی بنانے کے ساتھ ان کی سلامتی سے متعلق خدشات کا بھی سامنا کر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

12 hours ago