مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان عالمی سیاست میں ایک اور خطرناک موڑ سامنے آ گیا ہے، جہاں روس اور امریکہ کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق روسی تیل بردار بحری جہاز امریکی انتباہ کے باوجود کیوبا کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس کے بعد عالمی سطح پر تیسری عالمی جنگ کے خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے ان روسی ٹینکروں کو روکنے یا قبضے میں لینے کی کوشش کی تو یہ براہ راست فوجی جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ حالیہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکہ نے کیوبا پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرتے ہوئے توانائی کی سپلائی محدود کر دی۔ سال 2026 کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حکم جاری کرتے ہوئے ان ممالک کو خبردار کیا تھا جو کیوبا کو تیل یا گیس فراہم کریں گے۔ امریکی حکومت نے واضح کیا تھا کہ ایسے ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔ ان پابندیوں کے بعد کیوبا شدید توانائی بحران کا شکار ہو گیا ہے اور مارچ 2026 میں ملک بھر میں تقریباً 29 گھنٹے طویل بجلی بندش ریکارڈ کی گئی۔
توانائی بحران کے پیش نظر کیوبا نے اپنے دیرینہ اتحادی روس سے مدد کی درخواست کی، جس کے بعد روس نے تیل کی فراہمی کا فیصلہ کیا۔ سمندری انٹیلی جنس فرم ونڈورڈ کے مطابق “سی ہارس” نامی روسی ٹینکر تقریباً ایک لاکھ نوے ہزار بیرل تیل لے کر کیوبا کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ “اناتولی کولوڈکن” نامی ایک اور روسی جہاز بھی تقریباً سات لاکھ تیس ہزار بیرل خام تیل کے ساتھ کیوبا پہنچنے کی تیاری میں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیوبا کی صورتحال امریکہ کے لیے غیر معمولی خطرہ بن سکتی ہے اور واشنگٹن اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گا۔ دوسری جانب کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے امریکی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے۔
دریں اثنا بحیرہ کیریبین میں فوجی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق امریکہ اور روس دونوں اس خطے میں اپنی موجودگی مضبوط کر رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید حساس ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب دونوں طاقتیں اس سطح پر براہ راست تصادم کے قریب دکھائی دے رہی ہیں۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی سرگرمیوں نے دنیا کو ایک بار پھر بڑے تصادم کے خدشات سے دوچار کر دیا ہے، جس کے نتائج انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…