واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔ روس نے وینزویلا کے ساحل کے قریب اپنے ایک پرانے تیل بردار جہاز کی حفاظت کے لیے آبدوز اور بحری جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہی تیل ٹینکر اب امریکہ اور روس کے درمیان نئے تنازع اور سفارتی تناؤ کی بڑی وجہ بن چکا ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں سے بحرِ اوقیانوس میں اس روسی ٹینکر کا مسلسل تعاقب کیا جا رہا ہے۔ یہ جہاز، جس کا اصل نام بیلا ون بتایا جا رہا ہے، وینزویلا میں تیل لوڈ کرنے میں ناکام رہا اور اب روس کی جانب روانہ ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ ٹینکر روس کے اس نام نہاد ”ڈارک فلیٹ“ کا حصہ ہے، جو بغیر انشورنس اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی تیل تجارت میں ملوث ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دسمبر میں امریکی کوسٹ گارڈ نے اس جہاز کو اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کی تھی، تاہم جہاز کے عملے نے اس کارروائی کو ناکام بنا دیا۔ تعاقب کے دوران جہاز پر روسی پرچم لگا دیا گیا اور اس کا نام تبدیل کر کے ”مَیری نیرا“ رکھ دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس نے بغیر کسی مکمل جانچ پڑتال کے اس جہاز کو رجسٹریشن فراہم کی، تاکہ اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت روسی تحفظ حاصل ہو سکے۔
روس نے اس پورے معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹینکر کا تعاقب فوری طور پر بند کرے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ماسکو اس جہاز کی ہر نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی جارحانہ اقدام کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی فوج کے ساؤدرن کمانڈ نے سوشل میڈیا کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ وہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ موجودہ اطلاعات کے مطابق یہ ٹینکر اس وقت آئس لینڈ سے تقریباً 300 میل جنوب میں واقع ہے اور شمالی سمندر کی سمت بڑھ رہا ہے۔
یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین جنگ کے معاملے پر واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان محدود سفارتی رابطے جاری ہیں۔ اسی دوران سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی روسی صدر ولادیمیر پوتن پر تنقید کر چکے ہیں۔ روس پر عائد عالمی پابندیوں کے بعد تقریباً ایک ہزار پرانے تیل ٹینکروں پر مشتمل ایک ”ڈارک فلیٹ“ وجود میں آیا ہے، جس کے خلاف امریکہ مسلسل کارروائیاں کر رہا ہے۔ امریکہ پہلے ہی اس بیڑے کے دو بڑے جہاز، اسکیپر اور سنچوریز، کو ضبط کر چکا ہے، جس سے عالمی سطح پر روس اور امریکہ کے درمیان تناؤ مزید گہرا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی…
بتایا جا رہا ہے کہ آئی آئی ٹی ممبئی کیمپس میں گزشتہ تقریباً 7 ماہ…
ہگلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان…
تفتیش کے مطابق سیا اور چیتن اکتوبر 2025 سے مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں…
ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن…
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…