ماسکو: امریکی فوج کی جانب سے بدھ کے روز روسی پرچم بردار تیل بردار جہاز کی ضبطی کے بعد روس نے واشنگٹن کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسری ریاست کے دائرۂ اختیار میں قانونی طور پر رجسٹرڈ بحری جہاز کے خلاف، خصوصاً بین الاقوامی سمندروں میں طاقت کا استعمال کرے۔
روسی وزارت ٹرانسپورٹ کا بیان
روس کی وزارت ٹرانسپورٹ نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ تیل بردار جہاز مارینیرا (جو پہلے بیلا 1 کے نام سے جانا جاتا تھا) کو 24 دسمبر 2025 کو روسی فیڈریشن کے پرچم تلے سفر کی عارضی اجازت دی گئی تھی، جو روسی اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔ بیان کے مطابق یہ جہاز امریکی بحریہ نے کسی بھی ریاست کی علاقائی سمندری حدود سے باہر، کھلے سمندر میں روک کر اپنے قبضے میں لے لیا، جس کے بعد جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
اقوام متحدہ کے کنونشن کا حوالہ
وزارت نے 1982 کے اقوام متحدہ کنونشن برائے قانون سمندر (UNCLOS) کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ بحری نقل و حرکت کا اصول لاگو ہوتا ہے اور کوئی بھی ریاست کسی دوسرے ملک کے دائرۂ اختیار میں رجسٹرڈ جہاز کے خلاف طاقت استعمال کرنے کی مجاز نہیں۔ بیان میں کہا گیا: ’’24 دسمبر 2025 کو مارینیرا کو روسی فیڈریشن کے پرچم تلے سفر کی عارضی اجازت دی گئی تھی۔ آج تقریباً ماسکو وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے امریکی بحریہ نے اسے کھلے سمندر میں روک لیا، جس کے بعد جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔‘‘
امریکا کا کیا ہے مؤقف؟
یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب امریکی یورپی کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ اس نے شمالی بحر اوقیانوس میں روسی پرچم بردار تیل بردار جہاز M/V Bella 1 کو ضبط کر لیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ جہاز وینزویلا کے قریب امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو ہفتوں سے زائد عرصے تک ناکہ بندی سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امریکی کمانڈ کے مطابق جہاز کو امریکی فیڈرل کورٹ کے وارنٹ کے تحت ضبط کیا گیا۔
جہاز کی تاریخ
یہ تیل بردار جہاز 2024 میں امریکی پابندیوں کی زد میں آیا تھا، جس کے بعد اس کا نام بیلا 1 سے تبدیل کر کے مارینیرا رکھ دیا گیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر امریکہ اور روس کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوئی، یہاں تک کہ روس نے جہاز کو واپس لانے کے لیے بحری اثاثے، بشمول ایک آبدوز بھی روانہ کی۔
روسی وزارت خارجہ کا ردعمل
روسی پرچم بردار تیل بردار جہاز کی ضبطی کے بعد روس نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جہاز پر موجود روسی شہریوں کے ساتھ انسانی اور باوقار سلوک کیا جائے اور انہیں جلد از جلد وطن واپس بھیجا جائے۔ ٹی اے ایس ایس کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اس اطلاع پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ امریکی فوج نے کھلے سمندر میں جہاز مارینیرا (سابقہ بیلا 1) کو اپنے قبضے میں لیا ہے اور عملے میں روسی شہری بھی شامل ہیں۔ وزارت نے کہا: ’’عملے میں روسی شہریوں کی موجودگی کے پیش نظر ہم امریکی فریق سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ انسانی اور باوقار سلوک کیا جائے اور ان کے حقوق و مفادات کا مکمل احترام کیا جائے۔‘‘
جلد واپسی کا مطالبہ
ماسکو نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ روسی شہریوں کی وطن واپسی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے اور ان کی سلامتی و قانونی حقوق کو مکمل طور پر یقینی بنایا جائے۔ روسی حکام نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون اور سمندری اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…
مشاق خان کی آخری رسومات میں بڑے فلمی ستاروں کی عدم شرکت پر رضا مراد…
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتے کے روز نئی دہلی میں…
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…