مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے درمیان بھارت کے لیے ایک اہم اور مثبت خبر سامنے آئی ہے۔ روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت اور چین کو تیل کی فراہمی بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاکہ خطے میں جاری بحران کے دوران سپلائی میں ممکنہ خلل کا ازالہ کیا جا سکے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے بدھ کے روز کہا کہ روس چین اور بھارت کو اضافی خام تیل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتے تناؤ کے پیش نظر ایشیائی خریداروں کے لیے روس ایک متبادل اور مستحکم ذریعہ بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس توانائی کے شعبے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق فروری میں بھی روس بھارت کا سب سے بڑا خام تیل سپلائر بنا رہا۔ کیپلر کے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ فروری میں بھارت نے روس سے یومیہ ایک ملین بیرل سے زائد تیل درآمد کیا، اگرچہ یہ جنوری کے تقریباً 1.1 ملین بیرل یومیہ کے مقابلے میں معمولی کمی تھی۔ دوسری جانب سعودی عرب نے اپنی برآمدات میں تقریباً 30 فیصد ماہانہ اضافہ کر کے ایک ملین بیرل یومیہ سے زیادہ سطح حاصل کر لی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان فرق کم ہو گیا ہے۔
ادھر ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ان کا مکمل کنٹرول ہے۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے مقامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کو ممکنہ خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم راستہ سمجھا جاتا ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی بحریہ تیل بردار جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس بیان کو خطے میں نیویگیشن کی آزادی برقرار رکھنے کے عزم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 2.5 سے 2.7 ملین بیرل یومیہ خام تیل آبنائے ہرمز کے راستے بھارت پہنچتا ہے، جو بنیادی طور پر عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت سے آتا ہے۔ موجودہ کشیدگی کے باعث کارگو نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی ریفائنریز متبادل ذرائع تلاش کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ ایسے میں روس کی جانب سے سپلائی بڑھانے کا اعلان بھارت کے لیے ایک اہم ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روس مسلسل اور مستحکم فراہمی یقینی بناتا ہے تو بھارت عالمی منڈی کے دباؤ سے کسی حد تک محفوظ رہ سکتا ہے اور داخلی معیشت پر منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم مودی نے آسام، مغربی بنگال اور پڈوچیری کے ضمنی انتخابات کے نتائج پر…
ای روپے کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے والے دکانداروں کو بینک چارجز سے بچنے…
اتر پردیش میں کانگریس کی نئی تنظیمی حکمت عملی، مسلم ووٹوں، سیٹوں کی تقسیم اور…
مرکزی وزیر داخلہ نے یوم پیدائش پر فون کرکے دی مبارک باد دی، دونوں لیڈروں…
اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے پی ہریش نے وزیر داخلہ امت شاہ کے…
دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر یوگیش سنگھ کا پائیدار ترقی، اختراع اور طلبہ کی…