بین الاقوامی

Iran-US negotiations: امریکہ-ایران مذاکرات کے سلسلے میں قطری وفد پہنچا تہران، امن معاہدے پر سفارتی سرگرمیاں تیز، ایران میں مجوزہ معاہدے کے خلاف مظاہرے

تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں ایک قطری وفد اتوار کو تہران پہنچ گیا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وفد نے ایرانی حکام سے ملاقاتیں کرکے حالیہ پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق وفد کی قیادت قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے مشیر کر رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس دورے کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کے حوالے سے پیغامات کے تبادلے کے عمل کو جاری رکھنا ہے، جس کا مقصد جاری تنازع کا خاتمہ اور امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔

ایران میں مجوزہ معاہدے کے خلاف احتجاج

دوسری جانب ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں درجنوں افراد نے وزارتِ خارجہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے خلاف نعرے لگائے اور استعفے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا جب عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی شقیں شامل ہیں۔

معاہدہ کے لیے ٹرمپ پُرامید، تہران محتاط

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی حکام کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ معاہدے کو اتوار ہی کے روز حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ مجوزہ سمجھوتہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے مکمل طور پر دور رکھے گا اور معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد آبنائے ہرمز تمام جہاز رانی کے لیے کھول دی جائے گی۔ انہوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیا معاہدہ اس کے برعکس ہوگا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دے گا۔

ایرانی حکومت نے فوری معاہدے کی تردید کی

تاہم ایران نے معاہدے کے فوری اعلان سے متعلق خبروں کو محتاط انداز میں لیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ معاہدہ کل نہیں ہوگا، البتہ انہوں نے یہ امکان ضرور ظاہر کیا کہ آئندہ چند دنوں میں کسی سمجھوتے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ اس طرح جہاں ایک جانب امریکہ اور اس کے شراکت دار معاہدے کے جلد طے پانے کے بارے میں پُرامید ہیں، وہیں تہران کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، جس کے باعث خطے اور عالمی برادری کی نظریں آئندہ چند دنوں کی سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Bhartiya Patrakarita Mahotsav: بھارت ایکسپریس کی اہم شراکت سے اندور میں صحافت کا مہاکمبھ اختتام پذیر

اندور میں اسٹیٹ پریس کلب کے زیرِ اہتمام منعقدہ تین روزہ اٹھارویں ’انڈین جرنلزم فیسٹیول‘…

2 hours ago

Adani Group: اڈانی گروپ اور کچھ یونیورسٹی نے گرین انرجی سینٹر آف ایکسیلنس کا کیا آغاز، ہر سال 10 ہزار سے زائد طلبہ کو ملے گی تربیت

اڈانی گروپ کی اسکل ڈیولپمنٹ اور صلاحیت سازی کی اکائی اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن (ASE)…

3 hours ago